.

تمام علاقائی ممالک کو اپنے خلاف اکٹھا کرنے کا سہرا ایردوآن کے سر ہے : گارڈین اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رجب طیب ایردوآن نے اُس امر کو یقینی بنا لیا جس کو بہت سے لوگوں نے ناممکن سمجھ لیا تھا۔ یہ امر ہے تمام علاقائی ممالک اور مسابقتی طاقتوں کو اپنے خلاف اکٹھا کر لینا جن کے نزدیک شمالی شام میں انقرہ کا اقدام عدم استحکام پیدا کرنے والا ہے ... یہ تبصرہ برطانوی اخبار گارڈین میں ایک رپورٹ میں سامنے آیا۔ یہ رپورٹ گذشتہ ہفتے شمالی شام پر ترکی کے حملے سے متعلق ہے۔

اخبار کے مطابق آمریت کی روش کے حامل ایردوآن نے خود کو ایسی شخصیت کے روپ میں پیش کیا ہے جو مسلسل 16 برس سے دنیا کے خلاف واحد انسان ہے ... جب وہ ترکی کے وزیراعظم تھے اور پھر صدر بن گئے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ سرحد پر لڑائی ابھی تک محدود پیمانے پر ہے تاہم یہ صورت حال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ خبردار کر چکا ہے کہ حملوں کی کارروائیوں میں اضافے کی صورت میں گنجان آباد علاقوں کی جانب ترکی کی وسیع پیش قدمی کا نتیجہ بڑے پیمانے پر شہریوں کے جانی نقصان ، لوگوں کے بے گھر ہونے اور مقامی سطح پر بغاوت بھڑکانے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق ایسے میں جب کہ یورپی یونین، امریکا، روس، ایران اور عرب ممالک ترکی کے اس حملے پر اپنے اعتراضات کا اظہار کر رہے ہیں ،،، شام میں طاقت کا توازن ایک بار پھر تبدیل ہو رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایردوان کو یورپ کی جانب سے مخالفانہ رد عمل کی توقع تھی۔ اس کے جواب میں ترکی کے صدر نے دھمکی دی کہ وہ 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو بھیج دیں گے۔ یورپی قیادت کو ایردوآن کی جبر و استبداد کی حکومت کے ساتھ نارمل طور پر معاملات کرنے کی کوششوں کی بھاری قیمت اب چکانا پڑ رہی ہے۔ ترکی کے صدر کے حالیہ افعال سے واضح ہوتا ہے کہ وہ نہ تو جمہوری ہیں ، نہ کسی کے حلیف اور نہ کسی کے دوست !

اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ روسی اس وقت خوش ہوں گے۔ شام سے امریکا کو نکال دیے جانے کی شکل میں روسیوں کا طویل المیعاد ہدف پورا ہو گا۔ حالیہ حملے کے حوالے سے ماسکو کا رد عمل بڑی حد تک منفی رہا جیسا کہ گذشتہ برس شام کے صوبے ادلب میں ترکی کی مداخلت کے بعد دیکھنے میں آیا تھا۔

روس نے 2015 میں اپنی فورسز شام بھیجی تھیں۔ اس کے نتیجے میں ماسکو پر سیاسی اور مالی بوجھ میں اضافہ ہو گیا۔ ایردوآن کے اقدام نے معاملات کی پیچیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے باعث آستانا امن عمل کے نام سے جانے گئے پر امن تصفیے کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے جس پر روس، ایران اور ترکی عمل پیرا تھے۔ اسی واسطے روس نے کردوں پر (جن سے امریکا اس وقت دست بردار ہو چکا ہے) زور دیا ہے کہ وہ متبادل دفاعی سمجھوتے یا بشار الاسد کے ساتھ کسی نوعیت کے وفاقی انتظامات پر آمادہ ہو جائیں۔ یہ وہ وجہ ہے جس کے سبب بشار کی فوج اور ایران کی ہمنوا ملیشیائوں نے کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں کا رخ کیا۔

اخبار کے مطابق ایران بھی خوش ہے مگر اس کی وجوہات مختلف ہیں۔ تہران امریکیوں کو کوچ کرتا دیکھنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی وہ کرد اقلیت کو بھی پسند نہیں کرتا جس نے ایران کے اندر حکام کو تنگ کر رکھا ہے۔ ترکی کے حملے کے بعد داعش تنظیم کے دوبارہ سر اٹھانے کے اندیشوں سے متعلق افواہیں اس وقت خطے کے تمام کھلاڑیوں کے بیچ پھیلی ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے حریف فریق بھی ایک ہی جانب دکھائی دے رہے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ عرب حکومتوں نے جن میں مصر، اردن، بحرین، لبنان، امارات اور اسی طرح سعودی عرب شامل ہے ... ان سب نے ترکی کی مذمت کی ہے۔ عرب قیادت ترکی کے علاقائی غلبے کے سلسلے میں ایردوآن کی جانب سے الاخوان المسلمین کی سپورٹ کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ روس اور ایران کی طرح اب عرب رہ نما بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شام میں جنگ کے خاتمے اور ریاست پر کنٹرول کا واحد عملی طریقہ بشار الاسد کو قبول کر لینا ہے۔