.

تیونس کی آئندہ خاتون اوّل کون ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حالیہ صدارتی انتخابات میں جیت سے ہمکنار ہونے والے قیس سعید نے اتوار کی شب خطاب کیا تو دور کھڑی ایک خاتون بہت غور سے آئندہ صدر کے کے ہر لفظ کو سن رہی تھیں۔

جی ہاں یہ تیونس کی آئندہ خاتون اول اور قیس سعید کی اہلیہ جسٹس اشراف شبیل تھیں۔

وہ پہلی مرتبہ اپنے شوہر اور صدارتی امیدوار قیس سعید کے ساتھ صدارتی انتخابات کے پہلے دور میں ووٹ ڈالنے کے وقت نمودار ہوئی تھیں۔ بعد ازاں وہ گذشتہ ہفتے پارلیمانی انتخابات کے دوران پولنگ مرکز میں نظر آئیں۔

اشراف شبیل ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے شوہر کی انتخابی مہم کے مرکز کے اندر دیکھی گئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیس سعید کی انتخابی مہم کے دوران جلسوں اور ملاقاتوں میں ہمراہ نہ ہونے کے باوجود اشراف نے اپنے شوہر کو کرسی صدارت تک پہنچانے میں خفیہ اور سرگرم کردار ادا کیا۔

اشراف شبیل نے سوسہ شہر میں لاء کالج سے تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے تیونس میں ہائر جوڈیشل انسٹی ٹیوٹ سے کِرمنل سائنسز میں اعلی تعلیم کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک جج ہیں جنہوں نے اپیل کورٹ میں ایڈوائزر کے طور پر ذمے داریاں انجام دیں۔ اشراف تیونس میں پریلمنری کورٹ کے سربراہ کی انڈر سکریٹری بھی رہیں۔

سال 2017 میں ریڈیو تیونس کے ایک پروگرام میں قیس سعید نے بتایا کہ اشراف قبیل سے ان کا تعارف یونیورسٹی کیمپس میں ہوا تھا۔ بعد ازاں یہ تعارف محبت میں تبدیل ہو گیا اور اس کی تکمیل دونوں کی شادی کی صورت میں ہوئی۔ قیس اور اشراف کے تین بچے ہیں۔ دو بیٹیاں سارہ اور منی جب کہ ایک بیٹا عمرو ہے۔

اشراف شبیل صدارتی محل میں داخل ہونے والی پہلی خاتون جج اور تیونس میں خاتون اول کے منصب پر فائز ہونے والی آٹھویں خاتون ہوں گی۔ توقع ہے کہ اشراف اس منصب پر رہ کر بڑے پیمانے پر نمودار نہیں ہوں گی جیسا کہ قیس سعید پہلے ہی اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ وہ خاتون اول کا منصب ختم کر دیں گے۔ قیس باور کرا چکے ہیں کہ ان کا گھرانہ ان سے دور رہے گا اور اقدار سنبھالنے کے عرصے میں اہل خانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔