.

کرد فورسز شاید جان بوجھ کر داعش کے جنگجوؤں کو چھوڑ رہی ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کے کردملیشیا کے کیمپوں سے فرار کی ایک نئی توجیہ بیان کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کردوں کے زیرقیادت شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) شاید جان بوجھ کر داعش کے جنگجوؤں کو چھوڑ رہی ہیں تاکہ امریکی فوجیوں کو علاقے میں واپس لایا جاسکے۔

صدر ٹرمپ نے سوموار کو سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا ہے کہ ’’کرد شاید داعش کے بعض جنگجوؤں کو ہمیں دوبارہ اس معاملے میں شریک کرنے کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔انھیں ترکی یا یورپی اقوام دوبارہ بآسانی گرفتار کرسکتی ہیں ،کیونکہ بہت سے جنگجو ان ہی ممالک سے آئے تھے لیکن ان ممالک کو فوری اقدام کرنا ہوگا‘‘۔

ترکی کی شام کے شمال مشرقی علاقے میں فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے شامی جمہوری فورسز کے زیر اہتمام کیمپوں سے داعش کے بیسیوں غیرملکی جنگجو اور خاندان راہ فرار اختیار کرچکے ہیں۔ترکی کا کہنا ہے کہ اس کے حملے کے نتیجے میں یہ جنگجو جیل توڑ کر فرار نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کرد جنگجوؤں نے جان بوجھ کر ایک جیل کو ’’خالی ‘‘ کیا ہے۔

ترک وزیر دفاع حلوسی عکار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہماری فوجی کارروائی والے علاقے میں داعش کی ایک ہی جیل تھی۔ہم نے دیکھا ہے کہ اس کو وائی پی جی (کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ملیشیا) نے خالی کردیا ہے۔‘‘

خود صدر رجب طیب ایردوآن نے بھی ان ’’غلط اطلاعات‘‘ پر مبنی رپورٹس کو مسترد کردیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ ترک کے حملے کے نتیجے میں کرد فورسز نے انتہا پسندوں کو فرار کا موقع دیا ہے۔روزنامہ حرّیت کے مطابق صدر ایردوآن نے کہا کہ ’’ یہ دراصل غلط اطلاع ہے اور اس کا مقصد امریکا یا مغرب کو اشتعال دلانا ہے‘‘۔

ایس ڈی ایف نے اتوار کوکہا تھا کہ سرحدی قصبے عین عیسیٰ میں واقع ایک کیمپ میں بند داعش کے خاندانوں کے آٹھ سو ار اکین ترکی کی بمباری کے نتیجے میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ترکی نے گذشتہ بدھ کو کردملیشیا کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔اس کا مقصد کرد جنگجوؤں اور ان کے اتحادیوں کو سرحدی علاقے سے پیچھے دھکیلنا ہے۔اس کے ردعمل میں صدر ٹرمپ نے سوموار کی صبح ٹویٹس میں ترکی کے خلاف بڑی پابندیوں کی بھی دھمکی دی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کو یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ترکی کے خلاف پابندیوں کےلیے تیار ہے۔امریکی وزیر خزانہ اسٹیون نوشین نے کہا تھا کہ بنکوں کو اس سلسلے میں مطلع کیا جارہا ہے لیکن خود صدر ٹرمپ یا ان کی انتظامیہ نے ترکی کے خلاف ممکنہ پابندیوں کی تفصیل بتائی ہے اور نہ یہ وضاحت کی ہے کہ وہ کس بنیاد پر یہ پابندیاں عاید کریں گے.