.

ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں: امریکی اہلکار کی ’العربیہ‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وائٹ ہاؤس کے ایک ذمے دار نے "العربیہ" کو دیے گئے خصوصی بیان میں باور کرایا ہے کہ ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں جو اس کی معیشت کو نقصان پہنچائیں گی۔

ذمے دار کا کہنا تھا کہ "اب ہمارا مقصد شام میں فائر بندی تک پہنچنا ہے"۔

اس سے قبل امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کو کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمال مشرقی شام میں کرد فورسز کے خلاف ترکی کی فوجی کارروائی کے جواب میں ترکی کی دو وزارتوں اور تین وزراء پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ ترکی کے خلاف پابندیوں میں وزارت دفاع ، وزارت توانائی اور وزارت داخلہ شامل ہیں۔ ان تینوں محکموں کے ترک وزراء کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ امریکا میں ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیئے گئے ہیں اور ان کے ساتھ لین دین پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ پابندیاں صدرٹرمپ کے دستخط کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ عائد کی گئیں۔ حال ہی میں ترکی نے شمال مشرقی شام میں کُرد ملیشیا کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس کے بعد امریکا کی طرف سے انقرہ کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا۔