.

اگر روس شام کی مدد کرے تو یہ زیادہ ’اچھا‘ ہوگا:ڈونلڈ ٹرمپ

ترکی کے خلاف امریکا کی پابندیوں کا نفاذ خطے میں لڑائی میں حصہ لینے سے بہتر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترکی کی کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کو ایک نیا رُخ دینے کی کوشش کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ تو ترکی اور شام کے درمیان لڑائی ہے اور اگر روس شام کی مدد کرے تو یہ زیادہ ’’ اچھا ‘‘ ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کے خلاف امریکا کی پابندیوں کا نفاذ خطے میں لڑائی میں حصہ لینے سے بہتر ہے۔

شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد ملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) ماضی میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی اتحادی رہی ہیں۔ترکی نے گذشتہ ہفتے صدر رجب طیب ایردوآن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر گفتگو کے بعد ان فورسز کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی تھی۔اس کاکہنا ہے کہ وہ شام کے اس سرحدی علاقے میں محفوظ قائم کرنا چاہتا ہے جہاں ترکی میں مقیم شامی مہاجرین کو منتقل کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ترکی کی فوجی کارروائی سے قبل وہاں موجود امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا۔اس فیصلے پر امریکا کی دونوں جماعتوں صدر ٹرمپ پر یہ الزام عاید کررہی ہیں کہ انھوں نے داعش مخالف جنگ میں ملک کے ایک اہم اتحادی گروپ سے منھ موڑ لیا ہے۔امریکی صدر نے اس تنقید کا رُخ پھیرنے کے لیے سوموار کو ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں اور اس سے فوری طور پر کردوں کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کا کہنا ہے صدر ٹرمپ نے ترک ہم منصب سے فون پر گفتگو میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ وہ اس بحران میں ثالثی کے لیے بہت جلد خطے کے دورے پر روانہ ہورہے ہیں۔

دریں اثناء ترک صدر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طیب ایردوآن امریکی نائب صدر سے ملاقات کریں گے۔ اس سے پہلے انھوں نے ترکی کے دورے پر آنے والے مائیک پینس سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔