.

ترکی پر پابندیوں کی قرارداد جمعرات کو پیش ہو گی : لنڈسے گراہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے باور کرایا ہے کہ وہ جمعرات کے روز ایک قرارداد پیش کریں گے جس کے تحت شمالی شام میں حملہ کرنے کی پاداش میں ترکی پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

گراہم نے منگل کے روز العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ترکی کی فوجی کارروائی ایسی جارحیت ہے جو واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلق کو برباد کر دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں (امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی) انتظامیہ کے ترکی کے خلاف عملی اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور اس حوالے سے مزید اقدامات سامنے آئیں گے"۔

امریکی سینیٹر کے مطابق ترکی کی فوج کوبانی کے علاقے کے اطراف حرکت میں ہے اور اگر وہ کوبانی میں داخل ہو گئی تو یہ حقیقی طور پر ایک بھیانک امر ہو گا۔ گراہم نے باور کرایا کہ "وہ کوبانی میں مرتکب کسی بھی سفاکیت کی تمام تر ذمے داری ایردوآن پر عائد کریں گے"۔

اس سے قبل امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کو بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمال مشرقی شام میں کرد فورسز کے خلاف ترکی کی فوجی کارروائی کے جواب میں ترکی کی دو وزارتوں اور تین وزراء پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ ترکی کے خلاف پابندیوں میں وزارت دفاع ، وزارت توانائی اور وزارت داخلہ شامل ہیں۔ ان تینوں محکموں کے ترک وزراء کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ امریکا میں ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیئے گئے ہیں اور ان کے ساتھ لین دین پر بھی پابندی ہو گی۔

یہ پابندیاں صدرٹرمپ کے دستخط کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ عائد کی گئیں۔ حال ہی میں ترکی نے شمال مشرقی شام میں کُرد ملیشیا کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس کے بعد امریکا کی طرف سے انقرہ کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا۔