.

شام پر تُرکی کے حملے کے حوالے سے سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر آج بدھ کے روز سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے رکن ممالک کو شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر پرغور کے لیے آج بند کمرہ اجلاس بلایا گیا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کی درخواست بیلجیم جرمنی ، فرانس ، پولینڈ اور برطانیہ کی طرف سے کی گئی تھی۔ جمعرات کو سلامتی کونسل کا پہلا اجلاس یورپی ممالک اور دیگر ارکان کےدرمیان اختلافات کی وجہ سے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا تھا۔ گذشتہ جمعرات کو ہونے والے اجلاس کے بعد کوئی بیان جاری نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی کونسل کی طرف سے شام میں ترکی کی فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا جاسکا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا شمالی شام میں پیشرفت کی وجہ سے سلامتی کونسل اس اجلاس میں متحدہ حیثیت اختیار کر سکتی ہےایک سفارتکارنے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ روس ایک بار پھر اس اتفاق رائے کی مخالفت کرسکتا ہے۔

سفارت کار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ماسکو کی وجہ سے سلامتی کونسل میں کوئی متفقہ مشکل ہو جائے گا لیکن اجلاس کے اختتام پر یورپیوں کا ایک نیا بیان سامنے آنے والا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا مقصد ترکی پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانا اور شام میں جاری فوجی آپریشن جلد از جلد روکنا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ روس کو شمالی شام کی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ترکی کی سلامتی دونوں اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے تمام ممالک دہشت گردی سے متاثر ہیں