.

یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان سعودی عرب میں سمجھوتے پر دستخط متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کے درمیان جمعرات کے روز سعودی عرب میں ایک سمجھوتا طے پانے کا امکان ہے۔اس کے تحت جنوبی شہر عدن میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری بحران کا خاتمہ ہوجائے گا۔

پان عرب روزنامے الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق طرفین کے نمایندے’’جدہ سمجھوتا‘‘ کے نام سے اس ڈیل پر دست خط کریں گے ۔ یہ سمجھوتا سعودی عرب کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں طے پایا ہے۔

اس کے تحت ایک نئی حکومت اور ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔اس کمیٹی میں جنوبی عبوری کونسل اور عرب اتحاد کے ارکان کی تعداد برابر برا بر ہوگی ۔

ایس ٹی سی نے اگست میں عدن میں یمنی حکومت کے فوجی کیمپوں پر قبضہ کر لیا تھا اور شہر میں بیشتر سرکاری عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا ۔ پھراس نے عرب اتحاد کے انتباہ کے بعد جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔

الشرق الاوسط کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس سمجھوتے میں ایسی شقیں بھی شامل ہیں جن کے تحت بیرون ملک یمنی سفارت خانوں میں تعینات تمام اتاشیوں کی اسامیاں ختم کردی جائیں گی اور تمام سفارتی اسامیوں کی تنظیم نو کی جائے گی۔اسی سرکاری وزارتوں میں کام کرنے والے انڈر سیکریٹری کے عہدہ کی اسامیوں کی بھی تنظیم نو کی جائے گی۔

اس سمجھوتے پر دست خطوں کی تقریب میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس بھی شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی ہے تاکہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلا ف ایک مضبوط یمنی اتحاد تشکیل دیا جاسکے۔

ایس ٹی سی کے لیڈر عیدروس الزبیدی بدھ کو سمجھوتے پر دست خط کے لیے سعودی دارالحکومت الریاض روانہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے ہی جدہ میں سعودی حکام کے ساتھ گذشتہ مہینوں کے دوران میں عدن میں حالات معمول پر لانے اور نئی حکومت کی تشکیل مذاکرات کیے تھے۔