.

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پر قدیم انجیل کے اجزاء چوری کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میںEgypt Exploration Society نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے معروف امریکی پروفیسر اور قدیم تصانیف کے سائنس داںDirk Obbink پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے سوسائٹی کی لائبریری میں موجود قدیم ترین انجیل کے ایک نسخے کے 11 اجزاء کو چوری کرنے کے بعد فروخت کر دیا۔

پیپرس کے ٹکڑوں پر یونانی زبان میں تحریر انجیل کا یہ قدیم نسخہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے آثار قدیمہ کے دو ماہرین کو 1898 میں مصر کے صوبے المنیا کے ایک گاؤں (دارالحکومت قاہرہ سے 200 کلو میٹر دور) میں کچرے کے ڈھیر سے ملا تھا۔ بعد ازاں یہEgypt Exploration Society کی ملکیت میں آ گیا جو 1882 میں قائم ہوئی تھی۔

پیر اور منگل کے روز زیادہ تر بین عالمی میڈیا میں مصری سوسائٹی کی جانب سے 62 سالہ معروف پروفیسر پر عائد الزام کا چرچا رہا۔ امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" اور برطانوی اخبار "دی ٹائمز" نے بھی اس کہانی پر خصوصی روشنی ڈالی۔ الزام میں بتایا گیا ہے کہ پروفیسر اوبنک نے قدیم انجیل کے مذکورہ اجزاء واشنگٹنMuseum of the Bible کو فروخت کیے۔ میوزیم کا افتتاح دو سال قبل ہوا تھا۔

امریکی میوزیم نے اعلان کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں مصری سوسائٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا اور قدیم انجیل کے مسروقہ اجزاء سوسائٹی کو واپس کر دیے جائیں گے۔

مصری سوسائٹی کے ذمے داران نے واشنگٹن میں بائبل میوزیم سے درخواست کی تھی کہ وہ میوزیم کے پاس موجود آثار قدیمہ کے مخطوطات کی تصاویر ارسال کریں۔ میوزیم نے تعاون کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطلوبہ تصاویر فراہم کر دیں۔ اس کے نتیجے میں "ٹوما انجیل" کے نام سے معروف بائبل کے نسخے کے گمشدہ اجزاء کا معمہ حل ہوا۔ سوسائٹی نے میوزیم کو آگاہ کر دیا کہ گمشدہ 11 اجزاء میں سے بعض سال 2010 اور دیگر 2016 میں غائب ہوئے۔ بعد ازاں سوسائٹی نے پروفیسر اوبنک کو اس واقعے کا ذمے دار ٹھہرایا جو مذکورہ عرصے میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں آرکائیو سیکشن کے نگراں تھے۔

سال 1898 میں برطانوی ماہرین Bernard Grenfell اور ان کے ساتھی Arthur Hunt کو کچرے کے ڈھیر سے ملنے والا نسخہ کسی خواب سے کم نہ تھا۔ اس لیے کہ پیپرس کے لاکھوں ٹکڑوں پر مشتمل یہ خزانہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ دونوں برطانوی سائنس دانوں نے اپنے ساتھ پیپرس کے 5 لاکھ اجزاء کو لندن منتقل کیا۔ لندن میں اس مجموعے کے ایک ایک جز کا بغور جائزہ لیا گیا۔ پروفیسر اوبینک نے انہی میں سے بعض اجزاء چوری کر کے انہیں امریکی میوزیم کو فروخت کیا۔