.

سلامتی کونسل ایران پراسلحہ کی پاپندی کی تجدید کرے:برائن بُک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے لیے امریکا کے خصوصی مندوب برائن ہک نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایران پر اسلحہ کی پابندی کی تجدید کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو اسلحہ کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں عاید کرے۔

امریکی ایلچی نے ایران پر الزام لگایا کہ تہران توانائی کے منبع کو نشانہ بنا کر عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی آرامکو کمپنی کی تیل تنصیبات پرحملے اس کی زندہ مثال ہے۔

انہوں نے ایران کے بارے میں امریکی کانگرس کو بریفنگ میں بتایا "ہم نے ایران پر ایک بے مثال دباؤ مہم نافذ کی ہے تاکہ اس سے مذاکرات کی میز پرلایا جا سکے"۔

ان کا کہنا تھا کہ "جب دنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی تو ایران اپنی روش بدلنے پرمجبور ہوگا"۔

دباؤ شام میں ایران کے کردار میں رکاوٹ ہے

برائن ہک نے کہا کہ ایران پر دباؤ شامی حکومت کو اربوں ڈالرحاصل کرنے اور تیل فروخت کرنے کی تہران کی صلاحیت کو رکاوٹ بنا رہا ہے۔

ا مریکی مندوب نے اس سے بات کی تردید کی کہ شام میں کرد فورسز 'ایس ڈی ایف' اور ترکوں کے مابین لڑائی شمالی شام میں ایرانی یا روسی کردار کے مفاد میں ہے۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری اور میزائل پروگراموں پرپابندی کو شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ براہ راست فوجی محاذ آرائی کا خواہاں نہیں ہے۔ انہوں نے ایرانی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے معاملے پر مزید سنجیدہ انداز اپنانے پر زور دیا۔

ہک نے تہران پر الزام عائد کیا کہ ایران نےآئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے کی ثالثی کو ناکام بنایا تھا۔ انہوں نے ایران پر خطے اور پوری دنیا میں ایرانی انقلاب برآمد کرنے کا الزام عاید کیا۔