.

کانگرس میں ایردوآن اور ان کے خاندان کےاثاثوں کی تفصیلات کی رپورٹ طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے بعد امریکا نے ترک حکومت اور صدر طیب ایردوآن کے خلاف مزید اقدامات پرعمل درآمد شروع کیا ہے۔ ری پبلیکن رکن کانگرس سینیٹر لنڈسی گراہم اور متعدد امریکی سینیٹرز نے کانگرس میں ایک نیا بل پیش کیا ہے جس میں ترک عہدیداروں اور اداروں پر عاید کی جانے والی پابندیوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ترک صدر طیب ایردوآن اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ فراہم کرے۔

اس بل میں روس ، ایران اور ترکی کے لیے شام میں تیل پیدا کرنے والی کسی بھی غیر گروپ پر پابندیوں کے علاوہ ترکی کے خلق بینک پر پابندیوں کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

ترکی پر پابندیوں کے بل میں امریکی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ترکی میں موجود امریکی فوجی اڈے'انجرلک' کو کسی متبادل مقام پر منتقل کرے۔

سخت ترین معاشی پابندیاں

ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ کانگرس ترکی پر سخت ترین پابندیوں کے نفاذ کے حوالے سے یک آواز ہے۔ بل میں انقرہ پر زور دیا کہ وہ شام میں فوجی کارروائی فوری طور پربند کرے۔

ایک سینیرامریکی سینیٹر نے یہ تبصرہ کئی ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تُرک صدر رجب طیب اردوآن اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرتے ہیں امریکی پابندیوں کو ہٹانا نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا ہم دہشت گرد گروہ 'داعش' کو واپس نہیں آنے دیں گے۔ کردوں نے داعش کو شکست دینے میں ہماری مدد کی ہے۔

نسل کشی

سینیٹر ہولن نے کہا کہ ترکی جو کچھ کر رہا ہے وہ کردوں کے خلاف نسلی ہے۔اسے روکنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کے حمایت یافتہ گروپوں نے 'داعش' کے عناصرکو جیلوں سے آزاد کرانے میں دہشت گردوں کی مدد کی ہے۔

ایک نیوز کانفرنس میں امریکی سینیٹرنےامریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داری قبول کرے اور کردوں کے قتل عام بند کرائے۔ انہوں نے کہاکہ ترکی پابندیاں انقرہ کے لیے تکلیف دہ ہوں گی۔