.

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا غیرعلانیہ دورۂ افغانستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیر دفاع مارک ایسپر اتوار کو افغانستان کے غیر علانیہ دورے پر کابل پہنچے ہیں۔

جولائی میں پینٹاگان کی سربراہی سنبھالنے کے بعد ان کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے اور وہ ایسے وقت میں افغان قیادت سے بات چیت کے لیے آئے ہیں جب جنگ زدہ ملک میں قیام امن کے لیے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور امریکا کے فوجی مشن کی تعیناتی برقرار رکھنے کے بارے میں غیر یقینی کی صورت حال پائی جاتی ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان فواد امان کے مطابق مارک ایسپر ’’اہم لیڈروں سے ملاقات کرنے والے تھے اور انھیں امریکی فوج کی آپریشنل سرگرمیوں کے بارے میں بریف کیا جانا تھا۔‘‘ تاہم کابل میں امریکی فورسز کے ہیڈ کوارٹرز نے مارک ایسپر کے اس دورے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

امریکا اور طالبان گذشتہ ماہ ایک امن معاہدے پر دست خط کرنے والے تھے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان سے گذشتہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔انھوں نے افغانستان میں طالبان کے بم حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد یہ مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اگراب فریقین میں مذاکرات بحال ہوجاتے ہیں اور ان میں مجوزہ امن معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس کے تحت افغانستان سے امریکی فوج کا بتدریج انخلا ہوگا لیکن اس کے بدلے میں طالبان بھی سلامتی سے متعلق بعض یقین دہانیاں کرائیں گے۔

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے چند روز قبل ہی پاکستان میں طالبان سے غیر رسمی بات چیت کی ہے جس کے بعد اس بات کا امکان پیدا ہوا ہے کہ امریکا امن مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے۔