.

توقع ہے،امریکا جنگ بندی سے متعلق وعدوں کی پاسداری کرے گا: طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امریکا شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترکی کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی سے متعلق اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا اور تاخیری حربے استعمال نہیں کرے گا۔

ترکی نے گذشتہ جمعرات کو امریکا کے ساتھ شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد فورسز کے خلاف جاری اپنی فوجی کارروائی کو پانچ روز کے لیے روکنے سے اتفاق کیا تھا تاکہ اس دوران میں کرد ملیشیا (وائی پی جی) کے جنگجو تیس کلومیٹر کے مجوزہ ’’محفوظ زون‘‘ سے پیچھے ہٹ جائیں۔

صدر ایردوآن نے اتوار کو استنبول میں ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی کے اس وقفے میں کرد ملیشیا کے جنگجوؤں کا شام کے سرحدی علاقے سے انخلا مکمل نہیں ہوتا تو ان کے خلاف دوبارہ حملے شروع کردیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے یورپی یونین کے ممالک اور امریکی وفد کو بتا دیا تھا کہ اگر جنگ بندی کی ڈیل پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ترکی کرد ملیشیا کے خلاف اپنا آپریشن بحال کردے گا۔

قبل ازیں ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ترکی اور روس آیندہ ہفتے سربراہ مذاکرات میں شام کے دو شہروں منبج اور کوبانی ( عین العرب) سے پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کو ہٹانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔صدر رجب ایردوآن منگل کو اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے اس موضوع پر ہنگامی بات چیت کے لیے سوچی جائیں گے۔