.

شام پرترکی کی چڑھائی ایردوآن کی انتخابی شکست کا نتیجہ ہے: رکن کانگرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگرس کے رکن میٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوآن کے شمالی شام میں فوجی آپریشن کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ وہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے یہ محاذ کھولے ہوئے ہیں۔

انہوں نے جمعہ کے روز اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اردوآن نے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد اپنی مقبولیت میں اضافے کے لئے 20 لاکھ شامی مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ آپ شام میں یہ فوجی مہم دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے نہیں چلا رہے ہیں۔ آپ یہ اس لیے کررہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں آپ کو شکست ہوئی تھی اورآپ اپنی مقبولیت کو ایک بار پھر بڑھاوا دینے کے لئے 20 لاکھ شامی مہاجرین کو ملک بدر کرنےکی کوشش کررہے ہیں۔

امریکی رکن کانگرس نے لکھا کہ مسٹر صدر مملکت جب ہم دہشت گردی کو شکست دیں گے تو اور بہت سی جانیں بچ جائیں گی جو انسانیت کی اصل دشمن ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس مشترکہ کاوش سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔

اردوآن 18 ستمبر کو شمالی شام میں مشرقی فرات میں 30 کلومیٹر کے علاقے میں "محفوظ زون" کے قیام اور تیس لاکھ شامی پناہ گزینوں کی واپسی کا اعلان کیا تھا۔