.

یورپی کونسل نے شام میں ترکی کی یک طرفہ جارحانہ کارروائی کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے شام کے شمال مغربی علاقے میں ترکی کی یک طرفہ فوجی کارروائی کی مذمت کردی ہے۔

انھوں نے منگل کے روز فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمان کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’کسی کو بھی اس نام نہاد جنگ بندی سے بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ترکی اپنی فوجی کارروائی کو مستقل طور پر ختم کردے۔ وہ شامی علاقے سے اپنی فورسز کو واپس بلائے اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’علاقے میں ترکی کی مزید کارروائی سے انسانی مصائب میں اضافہ ہوگا، یہ ایک طرح سے داعش کی فتح ہوگی اور اس سے یورپ کی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہوجائے گی۔‘‘

ترکی نے نو اکتوبر کو شام کے شمالی مشرقی علاقے میں امریکا اور یورپ کی حمایت یافتہ کرد فورسز کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔اس کا مقصد کرد ملیشیا کو شام کے سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانا تھا جہاں ترکی ایک محفوظ زون قائم کرنا چاہتا ہے۔

گذشتہ جمعرات کو امریکا اور ترکی کے درمیان اس کارروائی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور ترکی کی مسلح افواج نے کرد ملیشیا کے خلاف پانچ روز کے لیے بڑی کارروائی روک دی تھی۔اس کے بعد سے علاقے میں صورت حال قدرے بہتر ہے۔ البتہ اس عرصے میں بعض جگہوں پرمتحارب فورسز میں وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں یا انھوں نے ایک دوسرے پر گولہ باری کی ہے۔

جنگ بندی کی شرائط کے تحت کرد فورسز کو شام کے سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹایا جانا تھا۔اس کی مدت آج ختم ہورہی ہے۔ ترکی نے یہ دھمکی دے رکھی ہے کہ اگرکرد ملیشیا کے جنگجو اس کے مجوزہ ’’محفوظ زون‘‘ سے پیچھے نہیں ہٹے تو ان کے خلاف دوبارہ کارروائی شروع کردی جائے گی۔

دریں اثناء جرمن وزیر دفاع نے شام میں بین الاقوامی انتظام کے تحت ایک سکیورٹی زون کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔این گریٹ کریمپ کیرن بوئر نے جرمن خبررساں ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ترکی اور روس کی شمولیت سے بین الاقوامی کنٹرول کاحامل سکیورٹی زون قائم ہوا جاتا ہے تواس سے شمالی شام میں کشیدگی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔‘‘

تاہم خاتون وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس زون میں جرمن فوجیوں کی شمولیت کے بارے میں پارلیمان فیصلہ کرے گی۔انھوں نے نشریاتی ادارے ڈویچے ویلے سے الگ سے ایک بیان میں کہا کہ چانسلر اینجیلا میرکل کو اس تجویز سے آگاہ کردیا گیا ہے۔