.

البانیا میں ایران کے پیراملٹری نیٹ ورک کی موجودگی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

البانوی پولیس نے ملک میں ایران کے ایک پیراملٹری نیٹ ورک کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مبیّنہ طور پرایرانی حزب اختلاف کے ایک جلا وطن گروپ کے ارکان پرحملوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

البانیا کے پولیس سربراہ اردی ویلیو نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کا غیرملکی ونگ ایک ’’فعال دہشت گرد سیل‘‘ کو چلا رہا تھا اور یہ مجاہدینِ خلق ( ایم ای کے)کو نشانہ بنانے کی سازش کررہا تھا۔‘‘

لیکن انھوں نے اس سازش کی تفصیل نہیں بتائی ہے اور نہ بتایا ہے کہ آیا اس میں ملوّث کے کسی رکن کی کوئی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔

پولیس نے الگ سے ایک بیان میں الزام عاید کیا ہے کہ ایران کے دو اعلیٰ عہدے دار تہران سے اس سیل کو چلا رہے تھے۔یہ نیٹ ورک ترکی میں مجرموں کے منظم گروپوں سے بھی وابستہ تھا۔وہ مجاہدین خلق کے ایک سابق رکن سے البانیا میں اس گروپ کے ارکان کے بارے میں معلومات حاصل کررہا تھا۔

ویلیو کا کہنا تھا کہ البانیا میں ایرانی حکومت کے ایجنٹوں کی مارچ میں سالِ نو نوروز کی تقریبات کے موقع پر ایک گروپ پرحملے کی ایک اور سازش کو بھی ناکام بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ البانوی حکومت نے گذشتہ سال ایرانی سفیر اور ایک اور ایرانی سفارت کار کو ملک کی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں بے دخل کردیا تھا۔

ایران نے حزب مخالف کے گروپ مجاہدین خلق کو غیرقانونی قرار دے رکھا ہے۔امریکا کے محکمہ خارجہ نے 2012ء تک اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیے رکھا تھا۔اس کے قریباً ڈھائی ہزار ارکان 2014ء میں عراق سے البانیا منتقل ہوگئے تھے۔