.

ترکی کی شام میں 12نگراں چوکیوں کے قیام کے منصوبے پر نظرثانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی شام کے شمال مشرقی علاقے میں نگرانی کے لیے بارہ چوکیوں کے قیام کے مجوزہ منصوبے پر نظرثانی کررہا ہے۔

ترکی کے سکیورٹی ذرائع نے بدھ کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔اس نے یہ فیصلہ ممکنہ طور پر شمال مشرقی شام کے سرحدی علاقے سے کرد ملیشیا کے انخلا کے بعد کیا ہے۔

ترک مسلح افواج نے اس وقت شام کے اس علاقے میں کردوں کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ترکی اس علاقے میں ایک محفوظ زون قائم کرنا چاہتا ہے جہاں شامی مہاجرین کو آباد کیا جائے گا۔

ترکی نے نو اکتوبر کو شام کے سرحدی علاقے میں امریکا اور یورپ کی حمایت یافتہ کرد فورسز کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔اس کا مقصد کرد ملیشیا کوشام کے ترکی کے ساتھ واقع سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانا تھا۔

گذشتہ جمعرات کو امریکا اور ترکی کے درمیان اس کارروائی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور ترکی کی مسلح افواج نے کرد ملیشیا کے خلاف پانچ روز کے لیے جنگی کارروائیاں روک دی تھیں۔ اس کے بعد سے اس علاقے میں صورت حال قدرے بہتر ہے اورکرد فورسز کے کمانڈر نے امریکا کو منگل کے روزمطلع کیا تھا کہ انھوں نے جنگ بندی سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کردیا ہے۔