.

تُونس کے منتخب صدر قیس سعید کی حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُونس کے منتخب صدرپروفیسر قیس سعید نے بدھ کے روز پارلیمان کے پہلے اجلاس میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

تونس میں تیرہ اکتوبر کو منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں 61سالہ قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دی تھی۔انھوں نے 72.71 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔

ان کے مدمقابل میڈیا ٹائیکون نبیل القروی نے اپنی شکست تسلیم کرلی تھی۔تُونس الیکٹورل کمیشن کے مطابق صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کی شرح 55 فی صد رہی تھی۔

پروفیسر قیس سعید نے آزاد حیثیت میں صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔وہ اقتدار کے عدم ارتکاز کے وکیل ہیں اور مقامی سطح پر جمہوریت اور اختیارات کی منتقلی کے حامی ہیں۔وہ منتخب عہدے داروں کو ان کے مینڈیٹ کے دوران میں ہٹانے کے بھی مخالف ہیں۔

وہ سماجی امور کے بارے میں سخت قسم کے قدامت پسند ہیں۔وہ سزائے موت کے حامی ہیں۔ہم جنس پرستی کے مرتکبین کو سزا دینے کے حق میں ہیں اور وہ شادی کے بغیرجنسی تعلقات رکھنے والے جوڑوں کے خلاف بھی قانون کا نفاذ چاہتے ہیں۔

پروفیسر قیس سعید نے اپنی صدارتی مہم میں کوئی زیادہ اخراجات نہیں کیے تھے لیکن انھیں بائیں بازو اور اسلام پسندوں دونوں کی حمایت حاصل تھی۔وہ اپنے حریف کے مقابلے میں صدر کے عہدے کے لیے ایک مختلف نقطہ نظر کے حامل رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تیونس براہِ راست جمہوریت کا تجربہ کرے۔

ان کے حریف نبیل القروی نے انتخابی مہم کے دوران میں اپنے ملکیتی ٹیلی ویژن اسٹیشن پر اپنے خیراتی کاموں کا ڈھنڈورا پیٹا تھا اور غریب ووٹروں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔انھوں نے ملک کی کاروباری اشرافیہ اور سیکولر تُونسیوں سے قدامت پرست نقطہ نظر کے حامل پروفیسر قیس سعید کے مقابلے میں حمایت کی اپیل کی تھی۔

نبیل قروی کو اگست میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے سے قبل منی لانڈرنگ اور ٹیکس بچانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا اور انھوں نے اپنی انتخابی مہم کا قریباً تمام عرصہ جیل ہی میں گزارہ تھا۔تاہم الیکشن کمیشن نے انھیں ٹیکس چوری کے اس مقدمے کے باوجود صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی مگر وہاپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی وجہ سے عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے اور ملک میں حقیقی تبدیلی کے خواہاں ووٹروں نے انھیں مسترد کردیاتھا۔