.

جاپان کا مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں اپنے جہازوں کے تحفظ کے لیے فوج بھیجنے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاپان کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وہ مشرق وسطی میں جاپان سے وابستہ بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے "سیلف ڈیفنس فورس" کے نام سے فوج بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔ جاپان کا مشرق وسطیٰ میں اس طرح کے کسی آپریشن میں شامل ہونے کا یہ پہلا موقع ہوگا۔

جاپان کے ایک سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ٹوکیو جہاز رانی کے تحفظ کے امریکا کی قیادت میں قائم ہونے والے اتحاد میں شامل نہیں ہوگا۔ جاپانی فوج اپنے طور پر صرف جاپانی جہازوں کے تحفظ کے لیے کام کرے گی۔

جاپانی ٹی وی چینل نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ان کی سرگرمیوں کا دائرہ "آبنائے ہرمز" سے باہر کے پانیوں میں ہوگا تاکہ ایران کے ساتھ تنازع سے بچا جاسکے۔

جاپانی میڈیا نے یہ بھی تصدیق کی کہ جاپانی حکومت ان فوجیوں کی تعیناتی کے مناسب وقت کا تعین کرنے کے لیے محتاط انداز میں غور کر رہی ہے۔

حکام نے زور کہا کہ جاپانی فورس کی سرگرمی خلیج سے دور ہو گی۔ فوج کو خلیج عمان اور شمالی بحیرہ عرب، آبنائے ہرمز اور یمن سے دور بین الاقوامی پانیوں تعینات کیا جائے گا۔

جاپانی افواج کی سرگرمیوں میں خلیج عدن میں افریقی ساحل پربحری قزاقی سےنمٹنا بھی شامل ہوگا۔

جاپان اس علاقے میں میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورسز کے گشت والے جہاز اور ہوائی جہاز بھیجنے کے امکان پر بھی غور کر رہا ہے۔

جاپان کی قومی سلامتی کونسل نے 18 اکتوبر کو مشرق وسطی کی صورتحال کے بارے میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس کے دوران جاپان سے وابستہ بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مشرق وسطی میں "سیلف ڈیفنس فورس" بھیجنے پر غور کرنے پر زور دیا گیا۔

اب تک جاپانی حکومت اس علاقے میں دوسرے ممالک کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

جب سے خطے میں تناؤ بڑھنا شروع ہوا ہے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، برطانیہ اور دیگر ممالک نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے امریکی زیرقیادت اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔