.

نیٹو چیف کا شمال مشرقی شام میں جنگ بندی پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں جنگ بندی سمجھوتے پر ہونے والی’’پیش رفت‘‘ کا خیرمقدم کیا ہے۔

انھوں نے بدھ کے روز برسلزمیں ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے:’’ میں شمال مشرقی شام میں ہونے والی پیش رفت اور تشدد میں کمی کو سراہتا ہوں۔‘‘

نیٹو سربراہ نے کہا کہ روس اور ترکی کے درمیان ساحلی سیاحتی مقام سوچی میں منگل کو طے پانے والے سمجھوتے کے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا:’’ہم نے ملاحظہ کیا ہے کہ (بحران کے) سیاسی حل کی جانب آگے بڑھا جاسکتا ہے۔اس کی پہلی شرط لڑائی کو روکنا ہے۔اس کے بعد ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور اس کی بنیاد پر شام میں جاری بحران کا سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔‘‘

وہ نیٹو کے صدر دفاتر میں تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے قبل گفتگو کررہے تھے۔اس اجلاس میں شام کی صورت حال کے بارے میں غور کیا جائے گا۔

اسٹولٹنبرگ نے بتایا کہ انھوں نے جرمن وزیر دفاع اینگریٹ کریمپ کیرن بوئر سے ان کی شام کے شمال میں ایک سکیورٹی زون کے قیام سے متعلق تجویز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ امن کی جانب راہ ہموار کرنے والی کسی بھی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انھوں نے فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں کی ترکی کی شام میں فوجی کارروائی پر نیٹو کے ردعمل پر تنقید پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس معاملہ پر اتحاد میں پائے جانے والے اختلافات ریکارڈ پر ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ اگرنیٹو اتحادی ترکی میں پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کے معاملے پر نظرثانی کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس ضمن میں انفرادی طور پرکوئی فیصلہ کرسکتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ تنظیم کے وزرائے دفاع جمعرات کو اپنے اجلاس میں اس موضوع پربھی تبادلہ خیال کریں گے۔