.

روس کا امریکا پر شام میں ’تیل کے تحفظ کے نام پر ڈکیتی‘ کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے امریکا پر شام میں تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے نام پر’’بین الاقوامی ڈکیتی‘‘ کا الزام عاید کیا ہے۔

روس کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’واشنگٹن اس وقت جو کچھ کررہا ہے،وہ مشرقی شام میں آئیل فیلڈز پر قبضہ اور انھیں اپنے کنٹرول میں لانا ہے۔یہ سادہ لفظوں میں بین الاقوامی ڈکیتی ہے۔‘‘

اس نے مزید کہا ہے کہ ’’ شام میں ہائیڈرو کاربن کے تمام ذخائر ’’داعش کے دہشت گردوں‘‘کی ملکیت نہیں ہیں اور یہ تمام داعش کے دہشت گردوں کے مدافعین کے بھی نہیں بلکہ صرف اور صرف شامی عرب جمہوریہ کے ملکیتی ہیں۔‘‘

روس کے اس بیان سے قبل امریکا نے شام میں تیل کے کنووں کے تحفظ کے لیے اپنے بعض فوجی تعینات رکھنے کا اعلان کیا ہے۔تیل کے ان بعض کنووں پر امریکا کی اتحادی شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کا کنٹرول ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کو شام کے صوبہ دیرالزور میں آئیل فیلڈز کے تحفظ کے لیے تعینات کیا جارہا ہے تاکہ توانائی کے یہ وسائل داعش یا دوسرے جنگجوؤں کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔

مارک ایسپر نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان فوجیوں کا مشن داعش کو ان آئیل فیلڈز تک رسائی سے روکنا ہے اور انھیں ایسے وسائل حاصل کرنے سے بھی روکنا ہے جن سے وہ خطے، یورپ اور امریکا پر حملے کرسکتے ہوں۔‘‘اس وقت شام کے اس علاقے میں قریباً دوسو امریکی فوجی تعینات ہیں۔