.

البغدادی کو ہتھیار ڈالنے کو کہا گیا مگراس نے انکار کردیا تھا: ایسپر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق کے بعد کہ شام کے صوبہ ادلب میں امریکی اسپیشل فورس کے کمانڈوز نے ایک کارروائی کے دوران 'داعش' کے سربراہ ابو بکربغدادی کو اس کے کئی دوسرے ساتھیوں سمیت قتل کردیا ہے۔ کارروائی کے دوران متعدد جنگجوئوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے اعلان کیا کہ امریکی اسپیشل فورس نے بغدادی کو ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا اور خود کو بارودی جیکٹ کے دھماکے سے ہلاک کردیا۔

ایسپر نے مزید کہا کہ کہا کہ شمال مشرقی شام سے امریکی انخلا کے نتیجے میں البغدادی کے قتل میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بغدادی کی موت دہشت گرد گروہ داعش کے لیے تباہ کن دھچکا ہے۔

مارک ایسپر نے کہا کہ البغدادی کی ہلاکت سے داعش کے دہشت گردانہ نظریے کو شکست دینا مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھ اکہ البغدادی کے خلاف کارروائی کے دوران دو امریکی فوجی معمولی مگروہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں۔

وہ مر گیا وہ مرگریا

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے اعلان کیا تھا کہ "ابوبکر البغدادی مر گیا ہے۔ انوہں نے کہا کہ امریکا نے دنیا کے سب سے خطرناک دہشت گرد کے خلاف انصاف قائم کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب امریکی فورسز نے بغدادی کو گھیر لیا تو وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ ایک سرنگ میں بھاگ گیا۔ اس کے بعد اس نے دھماکہ خیز بیلٹ میں دھماکہ کیا۔

امریکی صدر کا کہناتھا کہ البغدادی ایک بیمار اور لاغر شخص تھا۔ اب وہ ہلاک ہوگیا ہے۔ وہ ایک کتے اور بزدل شخص کی طرح مارا گیا۔

ٹرمپ نے البغدادی کے خلاف کارروائی میں تعاون پر عراق ، شام اور روس کا شکریہ ادا کیا۔