.

امریکی صدر کا البغدادی کے خلاف چھاپا مار کارروائی کی ویڈیو کےبعض حصے جاری کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کے خلاف اپنے فوجیوں کی چھاپا مار کارروائی کی ویڈیو کے بعض حصے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوموار کو واشنگٹن سے شکاگو روانہ ہوتے وقت گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس (ویڈیو) کے بعض حصے لے کر جاری کر سکتے ہیں۔‘‘

امریکا کے خصوصی دستوں کی ہفتے کو شام میں چھاپا مار کارروائی میں البغدادی اپنے تین بچوں اور بعض ساتھیوں سمیت مارے گئے تھے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اس چھاپا مار کارروائی کی تفصیل بیان کی تھی اور بتایا تھا کہ امریکی فوجیوں نے ابوبکر البغدادی کو ایک سرنگ میں مسدود کردیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے خود کو اپنے تین بچوں سمیت دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

انھوں نے کہا:’’وہ کتے کی موت مراہے۔‘‘یوں صدر ٹرمپ نے اپنے پیش رو صدور سے ایک مختلف آہنگ و انداز میں اپنے ایک مخالف کی موت کا اعلان کیا تھا۔ان کے بہ قول داعش کے سربراہ نے اپنی خود کش جیکٹ کو دھماکے سے اڑایا تھا۔امریکی فوجی ان کا پیچھا کررہے تھے اور اس وقت وہ ’’موت کی بند سرنگ‘‘ میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ان کی شناخت ہلاکت کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوئی تھی۔

دریں اثناء امریکا کے موقر نیویارک ٹائمز میں عسکری اور انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے اور اس میں صدر ٹرمپ کے ابوبکرالبغدادی کی ہلاکت سے متعلق بعض دعووں کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا گیا ہے۔

انھوں نے بار بار یہ کہا ہے کہ ’’البغدادی سرنگ میں چیخ اور چلا رہا تھا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تمام چھاپا مار کارروائی کو ایک فلم کی طرح ملاحظ کیا تھا اور اس کے بعد تفصیلی بیان جاری کیا تھا۔

لیکن اخبار نے اپنی رپورٹ میں ان کے اس دعوے کی نفی کی ہے اور اس کے بارے میں یہ کہہ کر شک کا اظہار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو چھاپا مار کارروائی کے دوران میں رونما ہونے واقعات کی آواز تک رسائی نہیں تھی اور وہ سرنگ کے اندر کی فوٹیج کو بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔