.

ترکی کی جانب سے کُردوں کے خلاف فاسفورس استعمال کرنے کے ناقابل تردید ثبوت ہیں : دی ٹائمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار The Times نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی کا یہ دعوی بے بنیاد ہے کہ اس کے پاس سفید فاسفورس موجود نہیں۔ اخبار کے مطابق برطانیہ نے ترکی کو سفید فاسفورس پر مشتمل عسکری مصنوعات فروخت کی گئیں۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ان مصنوعات کی برآمدات کے 70 سے زیادہ پرمٹ جاری کیے گئے۔ اخبار نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ نے اب ترکی کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی ہے بالخصوص وہ ہتھیار جو شام میں کردوں کے علاقوں پر حملے کے دوران استعمال کیے گئے۔

کیمیائی مواد کے شعبے سے متعلق ایک برطانی ماہر کا کہنا ہے کہ کیمیائی حملوں کے مقامات اور جھلسنے والے افراد کے جسموں سے حاصل ہونے والے نمونوں کا تجزیہ کر کے یہ جانا جا سکتا ہے کہ استعمال میں آنے والی سفید فاسفورس کی مصنوعات کس ملک کی تیار کردہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی جانب سے ترکی کو فروخت کیے جانے والے عسکری مواد میں گہرا دھواں چھوڑنے والے بم، آتشی گولہ بارود اور کیمو فلاج بم وغیرہ شامل ہیں۔ اگرچہ سفید فاسفورس ممنوعہ کیمیائی مواد نہیں ہے مگر اس کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ خطرناک طور پر جھلس جانے والے کردوں کی صورت میں گذشتہ ہفتے شمال مشرقی شام میں سفید فاسفورس کے استعمال کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آئے ہیں۔ دی ٹائمز اخبار نے خود 13 سالہ محمد حمید کا جھلسا ہوا جسم دیکھا۔ یہ شامی کرد بچہ 16 اکتوبر کی نصف شب ترکی کے لڑاکا طیارے کے حملے میں زخمی ہو گیا تھا۔

تل عامر میں ایک فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر نے گذشتہ ہفتے بتایا کہ اس نے کم از کم 15 ایسے افراد کا علاج کیا جن کے جسموں پر کیمیائی مواد سے جل جانے کے زخم موجود تھے۔ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کی جانب سے اب اس امکان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ شمال مشرقی شام پر ایردوآن حکومت کے حملے کے دوران جھلسا دینے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

نیٹو اتحاد میں شامل افواج کے ذریعے Smoke Bomb اور Light Bomb میں فاسفورس کا بطور مرکزی عنصر استعمال پھیلتا جا رہا ہے جن میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ کثیر فریقی سمجھوتوں کے تحت دستی بموں، فضائی گولہ بارود اور توپ کے گولوں میں اس کیمیائی مواد کے استعمال کی اجازت ہے۔ تاہم افراد کے خلاف حملے میں فاسفورس کا استعمال جنیوا کنونشن اور کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاہدوں کے مطابق ممنوع ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے پارلیمنٹ کو آگاہ کر دیا ہے کہ از سر نو جائزہ مکمل کیے جانے تک ترکی کے لیے ایسی کسی مواد کو برآمد کرنے کا پرمٹ جاری نہیں کیا جائے گا جو شام میں فوجی کارروائیوں کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہو۔

ادھر برطانیہ میں کیمیکل، بائیولوجیکل، ریڈیولوجیکل اور نیوکلیئر رجمنٹ کے سابق کمانڈر ہیمش دی بریٹن گورڈن کا کہنا ہے کہ یہ بات "نیم مصدقہ" ہے کہ برطانیہ نے حالیہ برسوں میں ترکی کو فاسفورس کی جو مصنوعات فروخت کیں وہ سفید فاسفورس کی اقسام میں سے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاسفورس ناقابل یقین حد تک جھلسا دیتا ہے اور نمی کی صورت میں یہ انسانی جسموں کو زیادہ جلا دیتا ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان جیمی اسٹون کے مطابق ترکی کو فاسفورس مصنوعات سے متعلق فروخت کیا جانے والا برطانوی عسکری مواد "انتہائی قابل تشویش" ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں اس معاملے کو پہلی فرصت میں پیر کے روز دار العوام میں پیش کروں گا ... یہ بات واضح ہے کہ حکومت کو بعض سوالات درپیش ہیں جن کا جواب دینا ہو گا"۔