.

"خلیفہ کا انجام"۔ امریکا نے البغدادی کی لاش کے ٹھکانے کی نشاندہی کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے داعش کے سربراہ خلیفہ ابو بکر البغدادی اور اس کے ساتھیوں کی خصوصی آپریشن میں ہلاکت کی تصدیق کے بعد امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے کہا ہے کہ البغدادی کی لاش ہمارے پاس ہے جسے جلد ہی محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگا دیا جائے گا۔

او برائن نے کہا کہ بغدادی کے ڈی این اے سے اس کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ہمارے پاس موجود دہشت گردوں کی لاشوں میں ایک لاش البغدادی کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ البغدادی کے قتل کے آپریشن کو سابق یرغمالی' کایلا مولر' کا نام دیا گیا تھا۔

اسی تناظر میں ایک امریکی عہدے دار نے اتوار کے روز کہا تھا کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے قتل آپریشن مغربی عراق کے ایک فضائی اڈے سے لانچ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں انٹیلیجنس اور سیکیورٹی عہدیداروں نے بغدادی کے خاتمے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

لاش "عین الاسد" اڈے پرمنتقل

شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کارروائی کے بعد البغدادی کی لاش "عین الاسد " اڈے میں منتقل کردی گئی ہے۔ آٹھ طیارے جنھوں نے البغدادی کو نشانہ بنایا تھا وہ عین العرب شہر کے صرین ہوائی اڈے سے اڑے جو شام اور ترکی کے سرحدی علاقے جرابلس ادلب میں آپریشن کے مقام تک پہنچے۔

اتوار کے روز ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے اعلان کیا تھا کہ ابوبکر البغدادی مر گیا ہے۔ امریکا نے دنیا کے سب سے خطرناک دہشت گرد کے خلاف انصاف نافذ کرکے اسے ٹھکانے لگا دیا ہے۔

ہتھیار ڈالنے سے انکار

اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق کے بعد کہ شام کے صوبہ ادلب میں امریکی اسپیشل فورس کے کمانڈوز نے ایک کارروائی کے دوران 'داعش' کے سربراہ ابو بکربغدادی کو اس کے کئی دوسرے ساتھیوں سمیت قتل کردیا ہے۔ کارروائی کے دوران متعدد جنگجوئوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے اعلان کیا کہ امریکی اسپیشل فورس نے بغدادی کو ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا اور خود کو بارودی جیکٹ کے دھماکے سے ہلاک کردیا۔

ایسپر نے مزید کہا کہ کہا کہ شمال مشرقی شام سے امریکی انخلا کے نتیجے میں البغدادی کے قتل میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بغدادی کی موت دہشت گرد گروہ داعش کے لیے تباہ کن دھچکا ہے۔