.

امریکی ایوان نمائندگان ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاری میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوان نمائندگان رواں ہفتے ایک قانونی بل پر رائے شماری کی تیاری کر رہا ہے جس کا مقصد ترکی پر بھاری پابندیاں عائد کرنا ہے۔ یہ اقدام شمال مشرقی شام میں ترکی کے حملے اور وہاں کی گئی نسلی تطہیر کے جواب میں سامنے آ رہا ہے۔

یہ رائے شماری فائر بندی کے اُس سمجھوتے کے بعد عمل میں آ رہی ہے جس کے تحت امریکی صدر کی انتظامیہ انقرہ کے خلاف حالیہ پابندیاں ختم کرنے پر آمادہ ہو گئی تھی۔ تاہم امریکی اخبار The Hill کے مطابق اس وقت امریکی قانون ساز افراد کے زیر غور یہ بات ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے شمالی شام سے امریکی فورسز کے انخلا کے فیصلے اور وہاں پر ترکی کے حملے کا جواب کس طرح دیا جائے۔

مذکورہ قانون کے بل کے منصوبے کی سربراہی ایوان نمائندگان میں خارجہ امور کی کمیٹی کے صدر ایلوٹ اینجل اور کمیٹی کے سینئر ریپبلکن رکن مائیکل مکول کر رہے ہیں۔ قانون کے بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ شام پر حملے میں ملوث ترک ذمے داران اور ترک وزارت دفاع کو سپورٹ کرنے والے بینکوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں ... اور یہ پابندیاں شام میں ترکی کی فوجی کارروائیاں ختم ہونے تک جاری رہیں۔

علاوہ ازیں قانونی بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترکی کی جانب سے روسیS-400 دفاعی میزائل سسٹم خریدنے پر انقرہ حکومت پر اضافی پابندیاں عائد کیے جانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ترکی کی فوج کے لیے امریکی ہتھیاروں کی برآمد کو ممنوع قرار دیا جائے۔

قانونی بل کے لیے ایوان نمائندگان کے دو تہائی ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے جس کا غالب امکان موجود ہے۔ اس لیے کہ ایوان نمائندگان پہلے ہی شام کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی کے خلاف قرار داد 60 کے مقابلے میں 354 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کر چکا ہے۔

یہ ترکی پر پابندیوں کے حوالے سے قرار داد کا آخری منصوبہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹر جم ریش اور لینڈسے گراہم کی جانب سے بھی انقرہ کو پابندیوں کی لپیٹ میں لینے کے لیے دو علاحدہ قرار دادیں پیش کی جا چکی ہیں۔ ان پر رائے شماری کے لیے کانگرس میں کام جاری ہے۔