.

جرمن ریستوران نے غلطی سے جنازے میں حشیش سے بنا کیک کھلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنازے میں افسوس کے لیے آنے والی ایک بیوہ اور دیگر کئی سوگواروں کو اس وجہ سے فوراﹰہسپتال منتقل کرنا پڑ گیا کیوں کہ انہیں جنازے کی تقریب کے دوران غلطی سے حشیش کا بنا ہوا کیک کھلا دیا گیا۔

یہ واقعہ جرمن شہر روسٹوک میں پیش آیا۔ مقامی حکام کے مطابق جنازے میں شرکت کرنے والوں کے لیے ایک مقامی ریستوران میں کافی اور کیک کا انتظام کیا گیا تھا۔ دوپہر کے بعد ایسا کرنا جرمن روایت بھی ہے۔

لیکن کیک کھانے کے فورا بعد ہی ایک بیوہ سمیت تیرہ افراد نے محسوس کیا کہ انہیں متلی کے ساتھ ساتھ چکر بھی آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون کو تو فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کرنا پڑا جبکہ دیگر کو بعد میں ہسپتال پہنچایا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق متاثرین نے ریستوران کے خلاف پولیس کو شکایت درج کروا دی ہے تاکہ ان کے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اگست میں پیش آیا لیکن سوگواروں اور موقع کی مناسبت کی وجہ سے یہ مقدمہ منگل کے روز درج کروایا گیا۔

جرمن پولیس کے مطابق یہ کیک ریستوران میں کام کرنے والے ملازمین کی ایک بیٹی نے تیار کیا تھا۔ اس ملازم نے اپنی بیٹی سے کہا تھا کہ وہ جنازے میں شرکت کرنے والوں کے لیے کچھ کیک تیار کرے۔

اٹھارہ سالہ لڑکی نے جنارے کے لیے کیک تیار کیے لیکن ساتھ ہی اس نے ایک کیک اپنے لیے بھی تیار کیا، جو کسی دوسرے موقع پر استعمال کیا جانا تھا۔ اس کیک پر لڑکی نے اپنے اور اپنے دوستوں کے لیے حشیش کی تہہ لگائی تھی۔

اس ملازم نے بیٹی سے پوچھے بغیر ہی فریج سے کیک اٹھایا اور ریستوران میں لے آیا۔ اٹھارہ سالہ لڑکی سے فی الحال تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس پر کل تیرہ الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں غفلت برتنے، جسمانی چوٹ پہنچانے، ایک جنازے میں خلل ڈالنے اور منشیات کے قانون کی خلاف ورزی کرنا بھی شامل ہیں۔