.

ایران پر نئی امریکی پابندیوں کا دائرہ پاسداران انقلاب کی کمپنیوں تک پھیل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کے روز ایران کے تعمیراتی شعبے کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ پابندیوں میں چار ایسی اشیاء بھی شامل ہیں جنہیں ایران اپنے فوجی یا جوہری پروگراموں میں استعمال کرتا ہے۔

جمعرات کے روز ایران کے لیے امریکی خصوصی مندوب برائن ہُک نے "العربیہ" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ایران کسی نئے جوہری معاہدے پر امریکا سے گفت وشنید قبول نہیں کرتا واشنگٹن تہران پر پابندیاں عائد کرتا رہے گا۔

ہک نے مزید کہا کہ پابندیوں کے ایک سال کے دوران ایرانی تیل کی فروخت 25 لاکھ بیرل سے کم ہو کر ایک لاکھ 20 ہزار بیرل پر آگئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کا تیل کا شعبہ بدترین زوال کا شکار ہوا ہے۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ دو سال قبل کی صورتحال کے مقابلے میں پابندیوں کی وجہ سے آج ایران کی حکومت معاشی طور پر کمزور ہے۔

امریکی مندوب نے وضاحت کی کہ امریکا کی طرف سے ایران پر پابندیاں اس کے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں۔