.

ویانا : بین المذاہب کانفرنس کے شرکاء کا زبان کے نفرت آمیز استعمال کی مذمت پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریا کے شہر ویانا میں مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمے سے متعلق دو روزہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ بدھ اور جمعرات کے روز ہونے والی اس بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد "شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرکز برائے بین المذاہب اور بین الثقافت مکالمہ" کی جانب سے کیا گیا۔ اس مرتبہ کانفرنس کا عنوان "نفرت آمیز خطاب کی مخالفت میں مذہب، میڈیا اور پالیس کا کردار" ہے۔ کانفرنس میں مذہب اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والی 200 سے زیادہ شخصیات شرکت کی۔ ان میں سوشل میڈیا اور بین الاقوامی اور سرکاری تنظیموں میں فیصلہ سازی سے متعلق افراد خاص طور پر شامل ہیں۔

کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر "شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرکز برائے بین المذاہب اور بین الثقافت مکالمہ" کے سکریٹری جنرل فیصل بن معمر نے باور کرایا کہ مذہب، نسل، جنس یا کسی بھی دوسرے عامل کی بنیاد پر افراد یا جماعتوں کے خلاف نفرت آمیز خطاب کا مقابلہ کرنے کے لیے مذہب اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے اداروں اور ان کی قیادت کا مؤثر کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ افراد فیصلہ سازوں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے ان کی معاونت میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل دور اپنے ساتھ بہت سے عظیم مثبت پہلو لے کر آیا ہے اور اسی طرح منفی امور بھی جو نفرت کو پھیلانے اور اس کے درخت کو تن آور بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس واسطے قدرت کے عظیم مشترکہ تحفے کو استعمال میں لایا جا رہا ہے اور وہ تحفہ زبان ہے۔ بن معمر نے تمام شرکاء پر زور دیا کہ وہ زبان کی صورت میں موجود اس تحفے کو بھلائی، امن اور مشترکہ زندگی گزارنے کی اقدار راسخ کرنے کے واسطے استعمال کریں ... مذہب اور سیاست کے استحصال کے ذریعے زبان کو تعصب ، انتہا پسندی اور نفرت پھیلانے کے آلے کے طور پر استعمال میں نہ لانے دیا جائے۔ بن معمر نے باور کرایا کہ مکالمے کا عالمی مرکز اس میدان میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس حوالے سے وسطی افریقا، نائیجیریا، عرب دنیا، میانمار اور یورپ میں زبان اور مذہب اور سیاست کے غلاف میں چھپی ہوئی نفرت کے انسداد کے واسطے مذہبی قیادت اور فیصلہ سازوں کی معاونت کی جائے گی۔

بن معمر کے بعد دیگر کئی شرکاء نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان پُل تعمیر کرنے کے سلسلے میں شاہ عبدالعزیز مرکز کے کردار کو سراہا۔ شرکاء نے اس اہم مسئلے کو زیر بحث لانے کے لیے قدم اٹھانے پر شاہ عبدالعزیز مرکز کا شکریہ ادا کیا۔

مصر کے مفتی عام ڈاکٹر شوقی علام نے باور کرایا کہ ہمیں اس وقت پُر امن بقاءِ باہمی، مکالمے اور مشترکہ وطنیت کی ضرورت ہے تا کہ نفرت انگیز خطاب کا مقابلہ کیا جا سکے۔ باہمی بقاء اور شان دار انداز سے معاملات کی تاریخ میں مسلمانوں کا ریکارڈ سنہری حروف سے تحریر ہے۔ وہ جنس، رنگ ، نسل اور مذہب کی بنیاد پر نفرت اور امتیاز کے جاہلانہ رجحان سے کبھی آشنا نہ ہوئے۔

متحدہ عرب امارات کی شرعی دارا الافتاء کونسل کے سربراہ شیخ عبداللہ بن بیہ نے کہا کہ "ویانا میں ہماری ملاقات انتہا پسند سوچ کو شکست دینے کے لیے ضروری تھی ، وہ سوچ جو مذاہب کے تشخص کو مسخ کر رہی ہے"۔

رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالعزیز احمد السرحان نے معاشرے میں افراد کے درمیان اور مختلف ذرائع ابلاغ میں مکالمے کی اہمیت پر زور دیا تا کہ نفرت آمیز خطاب کی تمام صورتوں پر روک لگائی جا سکے۔