.

سعودی عرب: کم سن بچّی پر تشدد کے ملزم فلسطینی باپ کے خلاف مقدمے کی جلد سماعت ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کا محکمہ استغاثہ ایک فلسطینی باپ کے خلاف اپنی سگی کم سن بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں مقدمہ چلانے کا عمل تیز کررہا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم پر بچّی پر تشدد کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔اس بچّی کے چہرے اور آنکھوں پر جسمانی تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔سعودی پولیس نے ستمبر میں دارالحکومت الریاض میں اس کے فلسطینی والد کو گرفتار کیا تھا۔

اس کی بچّی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت فلسطینی مقیم کے طور پر ہوئی تھی اور اس کی عمر چالیس کے پیٹے میں ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں اس شخص کو اپنی کم سن بیٹی کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہونے پر بار بار چہرے پر تھپڑ مارتے اور اس کے کان کھینچتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

آن لائن پوسٹ کی گئی ایک اور ویڈیو میں وہ بچی سے اپنے اس سفاکانہ سلوک پر معافی مانگتاہے اور بتاتا ہے کہ اس کی بیوی دو ہفتے قبل اس کو اور اس کے چار بچّوں کو چھوڑ کر گھر سے چلی گئی تھی۔اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بیوی ہی نے بچی کو مارنے کی ویڈیو مذموم مقاصد کے لیے آن لائن شئیر کی تھی۔

پولیس نے اس کی گرفتاری کے بعد اس کے چاروں بچّے اپنی تحویل میں لے لیے تھے اور کہا تھا کہ اس کے بچّوں کی متعلقہ حکام سے مل کر ضروری نگہداشت کی جارہی ہے۔

اس کی ویڈیو پرلوگوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اس کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر شئیر کیا گیا تھا تاکہ بچّی کو تشدد کا نشانہ بنانے والے اس شخص کی شناخت ہوسکے اور اسی کی روشنی میں اس کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔