.

سعودی عرب کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی نے آرامکو کے حصص کی فروخت کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی (سی ایم اے) نے سعودی آرامکو کے حصص کی ابتدائی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

سی ایم اے نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اتھارٹی کے بورڈ نے آرامکو کے حصص کی فروخت کے لیے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے اور یہ آیندہ چھے ماہ تک موثرالعمل رہے گی۔

اس نے وضاحت کی ہے کہ ’’ اس قرارداد کی منظوری کوکسی خاص کمپنی کے حصص کی پیش کشوں کے لیے سفارش نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘‘

سعودی آرامکو اپنے پانچ فی صد حصص ابتدائی طور پر فروخت کرنا چاہتی ہے اور اس کو توقع ہے کہ اس طرح اس کو 100ارب ڈالر کی رقم حاصل ہوجائے گی۔اس نے اپنے تمام اثاثوں کا تخمینہ 20 کھرب ڈالر لگایا ہے۔

کمپنی سعودی اسٹاک مارکیٹ تداول میں 2019 کے اختتام سے قبل ایک فی صد حصص فروخت کے لیے پیش کرے گی اور ایک فی صد حصص آیندہ سال فروخت کے لیے پیش کرے گی۔اس کے بعد 2020ء اور 2021ء میں بین الاقوامی مارکیٹ میں آرامکو کے حصص فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

ذرائع نے گذشتہ ہفتے العربیہ کو بتایا تھا کہ سعودی آرامکو کا گیارہ دسمبر کو سعودی اسٹاک ایکس چینج (تداول) میں اندراج کیا جائے گا۔سعودی عرب بین الاقوامی مارکیٹوں میں بھی آرامکو کا اندراج چاہتا ہے۔

سعودی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی حصص کی قیمتوں کے تعیّن کا آغاز 17نومبر سے کیا جائے گااور حتمی قیمت کا چار دسمبر کو اعلان کیا جائے گا۔

آرامکو کی حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو سعودی عرب کے خود مختار فنڈ میں جمع کرایا جائے گا اور اس کو سعودی عرب کے ویژن 2030ء پروگرام پر خرچ کیا جائے گا۔اس پروگرام کا مقصد سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنانا اور تیل کی آمدن پر انحصار کم کرنا ہے۔

سعودی آرامکو نے 2018ء میں 111ارب 10 کروڑ ڈالر کا منافع حاصل کیا تھا اور 2019ء کی پہلی ششماہی میں 46 ارب 90 کروڑ ڈالر کے منافع کی اطلاع دی تھی۔یہ دنیا میں سب سے منافع بخش کمپنی ہے۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیزبن سلمان کا کہنا ہے کہ آرامکو کے حصص کی پہلی مرتبہ فروخت اوّل وآخر سعودی عرب کا اپنا فیصلہ ہے۔انھوں نے گذشتہ ماہ روس کے ہفتۂ توانائی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمیں سعودی عرب میں توانائی کی صنعت میں بعض چیلنجز درپیش ہیں۔ہم آرامکو کے حصص کو پہلی مرتبہ فروخت کے لیے پیش کررہے ہیں اور ہم اس کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔‘‘