.

بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس ضمانت پر رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس کو گرامین کمیونیکیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے تین ملازمین کوبرطرف کرنے کے کیس میں ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کے مطابق ڈھاکا کی لیبر عدالت نےملزم کی عدالت میں پیشی کے موقع پرانہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدالت نے گذشتہ ماہ محمد یونس کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے لیے 7 نومبر تک کی آخری مہلت دی تھی۔ساتھ ہی حکام کو مہلت ختم ہونے سے قبل انھیں گرفتار یا ہراساں کرنے سے روک دیا تھا۔

عدالتی عہدیدار وزیر الرحمٰن نے کہا کہ عدالت نے محمد یونس کی تینوں کیسز میں 10 ہزار ٹکا (120 ڈالر) فی کیس کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔

وکیل دفاع مصطفی رحمان خان کا کہنا تھا کہ محمد یونس کو اب فرد جرم عائد ہونے سے قبل عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ لیبر کورٹ نے گذشتہ ماہ بیرون ملک ہونے کے باعث پیش نہ ہونے پر محمد یونس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

گرامین کمیونی کیشنز کے تین ملازمین نے جولائی میں محمد یونس کے خلاف کیس دائر کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ انھیں ٹریڈ یونین بنانے کی اجازت طلب کرنے پر غیر قانونی طور پر برطرف کیا گیا۔

واضح رہے کہ 79 سالہ پروفیسر محمد یونس ملک کو غربت سے نکالنے کے لیے چھوٹے پیمانے پر قرض دینے والی کمپنی 'گرامین بینک' کے بانی ہیں۔

انحوں نے لاکھوں دیہی کاروباری افراد کو چھوٹے پیمانے پر قرضے فراہم کرنے کے لیے یہ بینک سنہ1983ء میں قائم کیا تھا یہ اسکیم لوگوں کوغربت سے نکالنے کے لیے کامیاب ماڈل ثابت ہوئی اور اسی بنا پر محمد یونس اور بینک کو 2006 میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

بنگالی وزیراعظم حسینہ واجد اور محمد یونس کے درمیان سخت اختلافات بھی رہے ہیں۔ وہ اکثر اپنے منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے بین الاقوامی دوروں پر رہتے ہیں۔ سنہ 2007ء میں محمد یونس نے فوج کی مدد سے ایک سیاسی جماعت قائم کی تھی جس پر جیل میں قید حسینہ واجد نے سخت برہمی کیا اظہار کیا تھا۔ سنہ 2008ء میں اقتدار میں آنے کے بعد حسینہ واجد نے مغرب کے ساتھ گہرے مراسم رکھنےوالے محمد یونس کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔