.

ترک وزیرخارجہ شام میں فوجی کارروائی کی حمایت پر امیرِ قطر کے شکرگزار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے شام میں کردملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت پر امیرِ قطر شیخ حمد بن جاسم آل ثانی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انھوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اتوار کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے زیر اہتمام صومالیہ کے بارے میں منعقدہ کانفرنس کے موقع پر امیرِ قطر سے ملاقات کی ہے اور اس کے بعد ایک بیان میں ان کی حمایت کو سراہا ہے۔

انھوں نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’ہم قطر کی جانب سے ترکی کے (شام میں)’’آپریشن امن بہار‘‘ کی حمایت پر شکرگزار ہیں۔‘‘

ترکی کی مسلح افواج نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد ملیشیا کے خلاف گذشتہ ماہ یہ کارروائی کی تھی۔اس کا مقصد ترکی اور شام کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں ایک فری زون کا قیام تھا۔

ترکی نے اس کو آپریشن امن بہار کا نام دیا تھا اوراس نے یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام کے شمال مشرقی علاقے سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد کی تھی۔

امریکی صدر کو فوجیوں کے انخلا کے فیصلے پر حزب اختلاف ڈیمو کریٹک پارٹی کے علاوہ اپنی جماعت ری پبلکن کے ارکان کانگریس نے بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے صدر ٹرمپ پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے واشنگٹن کے وفادار اتحادی شامی کردوں کو ترک فوج کی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا ہے۔

واضح رہے کہ کرد ملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) نے امریکا کی داعش مخالف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا اور شام میں ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں ہی نے داعش کے خلاف برسر زمین جنگ لڑی تھی اور اس سخت گیر جنگجو گروپ کے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرایا تھا۔