.

ترک صدر کے حامی اخبار کی قطری چینل الجزیرہ انگلش کی شام کوریج پر کڑی نکتہ چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے حامی ایک اخبار نے قطر کے ملکیتی چینل الجزیرہ انگلش کی شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کی کوریج پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور ترک حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوحہ کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔

ترک روزنامہ صباح نے اپنے آن لائن ایڈیٹوریل میں لکھا ہے کہ ’’قطری نیوز چینل الجزیرہ انگلش ترکی مخالف پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے۔‘‘

اخبار نے الجزیرہ انگلش پر ترکی کی شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی کوریج کو متعصبانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’اس نے معروف دہشت گردوں اور بھگوڑوں کو جبروتشدد کا شکار کارکنان کے روپ میں پیش کیا ہے۔‘‘

ترکی کو کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف فوجی کارروائی پر مغربی میڈیا کے علاوہ عالمی لیڈروں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ متعدد مغربی ممالک نے ترکی کو اسلحہ کی فروخت بند کرنے کے اعلانات کیے ہیں اور اس پر شام کے شمال مشرقی علاقے کے جغرافیے کو تبدیل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ترک اخبار نے لکھا ہے کہ ’’الجزیرہ انگلش نے مغربی میڈیا ذرائع کی طرح خطے میں زمینی حقائق کو پیش کرنے سے انکار کیا ہے۔اس کے بجائے اس نے بعض مغربی حکومتوں کی گفتگوؤں اور ان کے اسپانسر دہشت گرد گروپ ہی کو آن ائیر پیش کیا ہے‘‘۔

الجزیرہ انگلش کی اس مخالفانہ کوریج پر روزنامہ صباح نے ترکی کے قطر کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال اٹھایا ہے اور یہ تجویز پیش کی ہے کہ ’’اگر الجزیرہ انگلش ترکی کی پالیسی پر تنقید اور اس کے خلاف مذموم مہم جاری رکھتا ہے تو پھر قطر کی حمایت جاری نہ رکھی جائے کیونکہ ترک عوام یہ توقع نہیں کرتے کہ قطر کی ان ممالک کے مقابلے میں حمایت جاری رکھی جائے جو بآسانی ترکی کا ساتھ دے سکتے ہیں۔‘‘