.

اقوام متحدہ کا عراق میں مظاہرین کی ہلاکتوں میں اضافے پراظہارِ تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے عراق میں جاری حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے دوران میں مظاہرین کی ہلاکتوں میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے عراق میں جاری مظاہروں کے دوران میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔عراق سے مظاہرین کے خلاف براہ راست گولیاں چلانے کی پریشان کن رپورٹس مسلسل موصول ہورہی ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق ’’سیکریٹری جنرل نے تمام کرداروں پر زوردیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں اور تشدد کی تمام کارروائیوں کی سنجیدگی سے تحقیقات کریں۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر عراقی حکومت اور مظاہرین کے درمیان بامقصد اور معنی خیز بات چیت کی ضرورت پر زوردیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ بغداد اور عراق کے جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر سے جاری پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 260 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں عراقی سکیورٹی فورسز کے اہلکار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلاتے ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کے علاوہ 2003ء میں امریکا کی چڑھائی کے بعد عراق میں نافذ سیاسی نظام میں مکمل اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔وہ ملک کی سیاسی اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن ، قومی خزانے میں لوٹ کھسوٹ،بے روزگاری کی بلند شرح اور سرکاری خدمات کے پست تر معیار کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔