.

امریکا کی قیادت میں بحری اتحاد کے بحرین میں کمان مرکز کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج میں امریکا کی قیادت میں حال ہی میں تشکیل پانے والے بحری اتحاد نے بحرین میں ایک کمان مرکز قائم کردیا ہے۔بحرین میں موجود امریکا کے پانچویں بحری بیڑے نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ کمان مرکز حالیہ مہینوں میں خلیج میں آئل ٹینکروں پر پے درپے حملوں کے ردعمل میں قائم کیا گیا ہے۔

امریکا نے خلیج میں اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز کے نزدیک ان حملوں کا الزام ایران پر عاید کیا تھا لیکن اس نے اس الزام کی تردید کی تھی۔امریکا نے دنیا میں تیل کی رسد کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے جون میں بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی کنسٹرکٹ ( آئی ایم ایس سی) کے نام سے بحری افواج کا ایک اتحاد تشکیل دیا تھا۔

امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کے میزبان بحرین نے اگست میں اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی۔اس کے بعد ستمبر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اس میں شامل ہوگئے تھے۔

دومغربی ممالک آسٹریلیا اور برطانیہ نے خلیج میں تیل بردار بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے اتفاق کیا ہے۔البانیا گذشتہ جمعہ کو اس اتحاد کا رکن بنا تھا۔جنگی بحری جہاز آبنائے ہُرمز سے تیل بردار جہازوں کے ساتھ ساتھ سفر کریں گے اور ان کا کسی بھی تخریبی حملے کی صورت میں تحفظ کریں گے۔

مشرقِ اوسط میں امریکا کی بحری افواج کے کمانڈر وائس ایڈمرل جیم میلوئے نے کہا ہے کہ آپریشن سینٹینل خلیجی پانیوں کے تحفظ کے لیے ایک دفاعی اقدام ہے۔یہ کسی کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’خطے کے لیے ہمارا عزم کوئی مختصر مدت کے لیے نہیں بلکہ دیرپا ہے۔ہم گشت پر خصوصی بحری جہازوں کو مامور کریں گے لیکن ہم کسی جارحیت کے بجائے کسی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کریں گے۔

واضح رہے کہ بیشتر یورپی حکومتوں نے اس بحری اتحاد میں شمولیت سے انکار کردیا تھا کیونکہ انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس طرح ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں اس جوہری سمجھوتے کو یک طرفہ طور پر خیرباد کہہ دیا تھا۔اس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان مخاصمت میں اضافہ ہوا ہے اور امریکا نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں کی ہیں۔ان کے ردعمل میں ایران نے آبنائے ہُرمز سے خلیج کے تیل کو گزرنے کی اجازت نہ دینے کی دھمکیاں دی ہیں۔

واضح رہے کہ 12 مئی کو متحدہ عرب امارات کی آبی حدود میں چار تجارتی تیل بردار جہازوں کو تخریبی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان میں دو سعودی عرب ، ایک ناروے اور ایک امارات کا ملکیتی تھا۔امریکا اور سعودی عرب نے ایران پر اس تخریبی حملے کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن اس نے اس کو مسترد کردیا تھا۔

اس کے ایک ماہ کے بعد دو تیل بردار ٹینکروں کوکوکا کورجئیس اور ناروے کے ملکیتی فرنٹ الٹائر پر حملہ کیا گیا تھا۔موخر الذکر جہاز میں تین دھماکے ہوئے تھے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے 19 جولائی کو برطانیہ کے ملکیتی ٹینکر اسٹینا ایمپرو کو پکڑ لیا تھا اور اسے یرغمال بنا لیا تھا۔پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس آئل ٹینکر کو آبنائے ہُرمز کے نزدیک بین الاقوامی جہاز رانی کی خلاف ورزیوں کے الزام میں قبضے میں لیا تھا لیکن برطانیہ نے ان کے اس موقف کو مسترد کردیا تھا۔تاہم بعد میں ایران نے برطانیہ کے اس پرچم بردار ٹینکر کو عدالتی اور قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد چھوڑدیا تھا۔