.

مصر کے اشتہاری اخوانیوں میں ترک شہریت بانٹی جانے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکام نے مصر کی کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے مفرور شدت پسند عناصر کو شہریت دینا شروع کر دی ہے۔ انہیں ترکی کی شہریت کے لیے کہا جا رہا ہے کہ وہ ترکی کے پاسپورٹ پر اپنا نام تبدیل کریں۔

مصر کے اندر متعدد مقدمات میں سزا یافتہ دہشت گرد یاسر العمدہ نے اپنے فیس بک پیج پر کہا کہ تُرک حکام نے انہیں شہریت دی ہے۔ اخوان المسلمون کے ٹی وی چینلز سے منسلک متعدد دیگر اخوانیوں کو بھی ترکی کی شہریت دی گئی ہے۔

ڈھائی ہزار ڈالر کی ادائیگی

العمدہ نے مزید کہا کہ ترک شہریت حاصل کرنے پر تقریبا اڑھائی ہزار ڈالر کی لاگت آتی ہے۔ ترکی کی شہریت کا حصول بہت پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہے۔ اس کے لیے اچھی خاصی فیس ادا کرنا پڑتی مگر مصر کے مفرور اخوان رہنمائوں اور کارکنوں کو ترکی میں آسانی کے ساتھ شہریت مل جاتی ہے۔ ترکی میں اخوان المسلمون کے کئی لیڈروں کو بلا معاوضہ شہریت دی گئی ہے۔

ایک مصری سیکیورٹی ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ یاسر العمدہ اخوان المسلمون کی انقلابی تحریک "غلابہ " کے بانی ہیں۔ مصر میں ان کے خلاف دہشت گردی سمیت کئی دوسرے مقدمات قائم ہیں مگر وہ بچ کر ترکی فرار ہو گئے تھے۔ ان پر ریاستی اداروں کے خلاف تشدد بھڑکانے اور حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے لیے اشتعال انگیز ویڈیوز شیئر کرتے رہتے ہیں۔

اسی تناظر میں مصری وکیل ڈاکٹر سمیر صبری نے انتظامی جوڈیشل عدالت کے رو برو ترک شہریت رکھنے والے اخوان المسلمون کے ان عناصر کی مصری شہریت منسوخ کرنے کے لیے ایک مقدمہ دائر کیا۔

صحافی اور سابق ممبران پارلیمنٹ

سمیر صبری نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو دیئے گئے بیان میں کہا کہ انہوں نے مفرر اخوانیوں کی مصری شہریت کی منسوخی کے لیے درخواست دی ہے۔ اس درخواست پر سماعت 17 نومبر سے شروع ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی شہریت حاصل کرنے والوں میں اخوان حکومت کے صحافی اور ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ترک حکام نے شہریت حاصل کرنے والے اخوانی لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ ترکی کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر اپنا نام تبدیل کریں۔

صبری نے بتایا کہ ترک کی شہریت حاصل کرنے والوں میں اخوان کے سینیر صحافی معتز مطر، حمزہ زوبع، محمد ناصر، ایمن نور، حسام شوریجی مدحت الحداد، محمد عبد العظیم بشلاوی، ایمن احمد عبدالغنی، خیرات الشاطر کے بہنوئی اور اخوان کے نائب رہنما یحیی حمید شامل ہیں۔ سابق صدر محمد مرسی کے سابق مشیر سیف الدین عبد الفتاح اسماعیل حسنین نے بھی اس گروپ میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی میں اخوان المسلمون کے حامیوں کو شہریت دینا بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ان کی گرفتاری روکنا ہے۔

150 درخواستیں

سمیر صبری نے انکشاف کیا کہ اخوان المسلمون کے 150 سے زیادہ رہنماؤں اور ان کے بیٹوں کی ترک شہریت کے لیے درخواست دی ہے۔ انہوں نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت آرٹیکل 16 کے تحت دوسرے ملک کی شہریت سے مستفید ہونے والے اخوانی ارکان کی مصری شہریت منسوخ کی جائے۔