.

ترک صدر کی ایک بار پھر یورپ کو'پناہ گزین کارڈ' کے ذریعے دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے جمعرات کو ایک بار پھر یورپی یونین کو پناہ گزین کارڈ کی دھمکی دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یورپ کی طرف سے ترکی کو پناہ گزینوں کے حوالے سے مدد فراہم نہ کی گئی تو وہ پناہ گزینوں کے سمندر کو یورپ کے لیے کھول دے گا۔

بڈاپسٹ میں ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اردوآن نے کہا کہ ان کا ملک اس وقت پناہ گزینوں کے لیے یورپ جانے والے راستے کھول دے گا جب اسے یوروپی یونین کی طرف سے بھرپور تعاون حاصل نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی اس بوجھ کو عرصے تک برداشت نہیں کرسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چاہے ہمیں تعاون ملے یا نہ ملے ، ہم مہمانوں کی مدد کرتے رہیں گے لیکن اگریورپ ہماری مدد نہیں کرتا تو ہمیں دروازے کھولنا پڑیں گے۔

طیب ایردوآن نے کہا 'اگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ ہمارے پاس دروازے کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ اگر ہم پناہ گزینوں کے لیے دروازے کھولیں تو یہ واضح ہوجائے گا کہ ان کی منزل کہاں ہوگی۔ ہم شمالی شام میں جو محفوظ زون قائم کرنا چاہتے ہیں اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہمارے علاقے میں موجود مہاجرین وطن واپس جائیں۔

تُرک صدر نے یورپی یونین کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں "سیف زون" کے قیام کے منصوبے کے لیے مزید مالی مدد فراہم کریں تاکہ شامی پناہ گزینوں کو وہاں پر منتقل کیا جا سکے۔ ترکی کی طرف سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب یورپی ممالک نے شمال مشرقی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر سخت تنقید کی تھی۔

انقرہ نے بار بار یوروپی یونین سے 35 لاکھ سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 10 اکتوبر کو طیب اردوآن نے کہا کہ اگر یورپی ممالک شام میں ترکی کی فوجی مداخلت کو ایک قبضے کی کارروائی سمجھتےہیں تو ان کا ملک اپنے ہاں پناہ لینے والے 36 لاکھ شامی مہاجرین کو یورپ بھیج دے گا۔

اردوآن نے"آق" پارٹی کے ارکان پارلیمان سے خطاب میں کہا کہ 'پیارے یورپی یونین! یاد رکھنا میں نے پھر کہا کہ اگر آپ ہمارے آپریشن کو یلغار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم پناہ گزینوں کے روکے گئے سمندر کو یورپ جانے کے لیے کھول دیں گے۔ ہم اس وقت 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔'۔

انہوں نے ستمبر میں بھی پناہ گزین کارڈ استعمال کرتے ہوئے یورپ سے شامی پناہ گزینوں کے لیے امداد کا مطالبہ کیا تھا۔