.

تیونس کی مرکزی جماعتیں آئندہ حکومت النہضہ موومنٹ کے ہاتھوں میں نہیں دیکھنا چاہتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں مرکزی سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا ہے کہ وہ "النہضہ موومنٹ" سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو آئندہ حکومت کا سربراہ قبول نہیں کریں گی۔ ڈیموکریٹک کرنٹ پارٹی کے رہ نما غازی الشواشی کے مطابق سیاسی جماعتوں کے نزدیک یہ ایک نازک مرحلہ ہے جو ایک ایسے سربراہ کا متقاضی ہے جس پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہو۔

الشواشی نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ حکومت کا سربراہ اقتصادی پس منظر کا حامل ہو تا کہ وہ ملک کی معیشت کو بچانے میں کردار ادا کر سکے۔

ادھر "تحیا تونس" پارٹی نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ حکومت "پارٹی کوٹے" کی نہیں بلکہ ایک قومی مفاد کی حکومت ہونی چاہیے جو فوری اقتصادی اصلاحات پر توجہ مرکوز کرے۔

یاد رہے کہ النہضہ موومنٹ آئندہ ہفتے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اپنے نامزد امیدوار کا نام پیش کرے گی۔

دوسری جانب تیونس میں ترقی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے وزیر زیاد العذاری نے دو سال تک قلمدان سنبھالنے کے بعد جمعرات کے روز اپنا استعفا پیش کر دیا۔ اس اقدام کے بعد یہ قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں کہ النہضہ موومنٹ انہیں آئندہ حکومت کی سربراہی کے لیے نامزد کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 44 سالہ العذاری النہضہ موومنٹ کی اُن اہم شخصیات میں سے ہیں جن کو موومنٹ کے سربراہ راشد الغنوشی کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ العذاری نے گذشتہ برسوں کے دوران ریاست کے کئی اعلی منصبوں پر کام کیا۔ وہ یونیورسٹی کی سطح پر چار ڈگریوں کے حامل ہیں۔

تاہم مبصرین نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ العذاری کے مستعفی ہونے کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں۔