.

جرمن عوام کی اکثریت ترکی کو نیٹو اتحاد سے باہر دیکھنا چاہتی ہے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئے عوامی سروے کے مطابق جرمنی کے 58% لوگ یہ چاہتے ہیں کہ شام میں حالیہ فوجی حملے کے سبب ترکی کو نیٹو اتحاد سے نکال دیا جائے۔

جرمن اخبار "ڈوئچے ویلے" کی ویب سائٹ کے مطابق یہ سروے "یوگوو" مرکز کی جانب سے کرایا گیا۔ اس دوران 25 سے 28 اکتوبر تک 2000 سے زیادہ بالغ جرمن شہریوں سے خصوصی بات چیت کی گئی۔

نتائج کے مطابق 58% جرمن یہ سمجھتے ہیں کہ ترکی کو شمالی اوقیانوس کے اتحاد "نیٹو" سے باہر کر دیا جائے۔ یہ اتحاد یورپ اور شمالی امریکا کے 29 ممالک پر مشتمل ہے۔ سروے میں صرف 18% نے اس خیال کی مخالفت کی۔

سروے کے مطابق جرمن شہریوں میں 61% نے رجب طیب ایردوآن کی حکومت پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تائید کی جب کہ 69% کے نزدیک ترکی کو ہتھیاروں کی برآمدات پر مکمل پابندی لگا دینی چاہیے۔

واضح رہے کہ ایردوآن کی جانب سے 9 اکتوبر کو شمالی شام میں فوجی حملہ شروع کیے جانے کے بعد سے جرمن حکومت نے ترکی کو ہتھیاروں کی فروخت پر جزوی پابندی عائد کر دی۔ تاہم انقرہ کو اسلحے کی فروخت پر مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی جیسا کہ جرمن چانسلر اینجیلا میرکل نے پہلے اس عزم کا اظہار کیا تھا۔

اسی طرح نیٹو اتحاد کے تاسیسی منشور میں ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جو اتحاد کے ممالک کی جانب سے کسی بھی رکن ملک کو نکال دینے کا میکانزم واضح کرتا ہو۔ البتہ منشور میں ایسی شقیں موجود ہیں جو کسی بھی ملک کو اتحاد سے دست بردار ہونے کی اجازت دیتی ہیں۔ غالبا نیٹو سے ترکی کو باہر کرنے کا عمل ایک پیچیدہ اور طویل کارروائی کا متقاضی ہو گا اس کے لیے تمام رکن ممالک کی موافقت اور منظوری کی ضرورت ہو گی۔

دوسری جانب جرمنی میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کئی سیاست دانوں نے ترکی کو نیٹو اتحاد سے باہر کر دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم جرمنی کے سابق وزیر خارجہ زیگمار گابریئل جرمن روزنامے Tagesspiegel سے گفتگو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ نیٹو سے ترکی کو نکال دینے کا نتیجہ یورپی یونین کی مشرقی سرحد پر ایک نئے اور بڑے سیکورٹی خطرے کی صورت میں سامنے آئے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں انقرہ کی جانب سے روسی S-400 دفاعی میزائل سسٹم کی خریداری پر اصرار نے نیٹو کے حلیف ممالک کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر دی۔ مزید برآں شمالی شام میں کردوں کے خلاف فوجی حملے نے بگڑی صورت حال پر تیل کا کام کر دیا۔