.

شمالی شام میں تیل کی آمد کردوں کو دی جائے گی: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جوناتھن ہفمین نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک اب بھی شام میں کردوں کی نمائندہ تنظیم کرد ڈیموکریٹک فورسز 'ایس ڈی ایف' کے ساتھ کام کر رہا ہے اور وہ انھیں داعش سے لڑنے کے لیے بھرپور مدد کرتا ہے۔

انہوں نےکہا کہ توقع ہے کہ شمال مشرقی شام میں ترکی کی حمایت یافتہ کسی بھی تنظیم کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف اس بات پر بھی زور دیا کہ شمالی شام میں موجود تیل کی تنصیبات سے حآصل ہونےوالی آمدنی امریکا نہیں لے گا بلکہ وہ 'ایس ڈی ایف' کو دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوجی کمانڈروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شمال مشرقی شام میں تیل کی تنصیبات کے لیے خطرہ نننے والی کسی بھی قوت سے لڑیں۔

ہفمین نے کہا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ ترکی شمال مشرقی شام میں اپنی حمایت یافتہ کسی بھی تنظیم کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعقات کی خود ہی تحقیقات کرے گا۔

جنگ بندی کے حوالے سے انہوں نے زور دے کر کہا کہ شام میں عام طور پر جنگ بندی برقرار ہے۔ چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہوتی ہیں مگر مجموعی طوپر جنگ بندی پردونوں فریق قائم ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیر اہلکار نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ شمال مشرقی شام میں مقامی حکام شام کے ان علاقوں سے نکالے جانے والے تیل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا مقامی حکام کے تیل کی تنصیبات کی آمد کو وہاں کے لوگوں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ امریکا اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی ہدایت جاری نہیں کرتا۔

29 اکتوبر کو پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ امریکا شام کے تیل کی تنصیبات اپنی حمایت یافتہ کرد فورسز کے ہاتھ سے چھیننے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دےگا۔ امریکی حکومت کا کہنا تھا کہ شمالی شام میں تیل کی تنصیبات پر داعش کے قبضے، روسی حمایت یافتہ فورسز یا شامی رجیم کی حامی فورسز کو قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔