.

'ایران کے لیے جوہری اور میزائل پروگرام سے ملیشیائیں زیادہ اہم ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز 'آئی آئی ایس ایس' نے جمعرات کے روز ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے بارے میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں پاسداران انقلاب کے ذریعہ قائم کردہ ملیشیا ایران کے لیے اس کے بیلسٹک میزائلوں اور جوہری پروگرام سے زیادہ اہم ہیں۔

لندن میں قائم بین الاقوامی تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران اور امریکا اور خطے کے دوسرے ممالک کی ایران کے ساتھ جاری محاذ آرائی کی وجہ سے تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری پروگرام سب سے اہم ترین امور ہیں۔ مگر تیسرا ایرانی تزویراتی اہمیت کا حامل معاملہ ایرانی ملیشیائوں کا ہے جو ایران کے لیے اس کے جوہری اور میزائل پروگرام سے بھی زیادہ اہم ہے۔

تحقیق کے مطابق اریران کا علاقائی اثر و رسوخ تہران کی وفادار جماعتوں اور مسلح ملیشیاؤں کے ذریعہ قائم ہوتا ہے۔ ایران نے عراق ، لبنان اور شام میں ان گروہوں کے ذریعے کم سے کم نقصانات کے بدلے زیادہ سے زیادہ توسیع اور علاقائی اثر و رسوخ حاصل کیا۔ یمن میں بھی ایران نے اپنی توسیع پسندی کا ایسا ہی کھیل کھیلا اور یہاں کے ایک منحرف حوثی گروپ کو ہرقسم کی مادی اور معنوی امداد فراہم کی۔

ایران کے ایجنٹ

انسٹی ٹیوٹ نے ایران کے "پراکسی" کی اصطلاح کا حوالہ دیا۔ ایران اپنی قومی ریاست کی خود مختاری ی سے باہر دہشت گرد اورع مسلح گروہوں کو 'پراکسی' کے طورپر استعمال کرتا ہے۔ لبنان میں "حزب اللہ" ، یمن میں "حوثی" اور عراق میں "الحشد الشعبی" جیسے عسکری گروپ ایران کی مالی معاونت سے تہران کے مقاصد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان گروپوں کوایران نہ صرف پیسہ فراہم کررہا ہے بلکہ انہیں باقاعدہ عسکری تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ تہران نے ایجنٹوں کے نیٹ ورک کے ساتھ ان میں سے کسی سے بھی باقاعدہ تعلقات کے قیام کی کوشش نہیں بلکہ ان سے تعلقات کے لیے'مزاحمت کا محور'، مغربی تسلط کے خلاف جدو جہد اور اسرائیلی ریاست کے خلاف لڑنے جیسے پھسپھسے نعروں کو بنایا گیا۔

عراق پر امریکی حملے کے ساتھ ہی ایران نے عراقی پراکسیوں کو منظم کیا۔ ان کے بعض عناصر اس وقت عراق میں پناہ لیے ہوئے تھے۔حزب اللہ کے قیام کے بعد ایران نے عراق میں دوسری غیرملکی ملیشیا تیار کی۔

تہران مداخلت

عراق میں سیاسی نظام کے سبوتاژ ہونے اور ایران کی بڑھتی مداخلت روکنے میں مغرب اور امریکا کی ناکامی کے نتیجے میں ایران عراق میں خلا کو پُر کرنے میں کامیاب رہا۔ لہذا تہران کو ایک عرب ملک کی سیاسی نشو نما میں مداخلت کی اجازت دی جو سنہ1980ء کی دہائی میں لبنان کے تجربے کے بعد پہلی بار گر گئی تھی۔

اس کے بعد 2011 میں شام کی صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ایران اپنے واحد اتحادی ، بشار الاسد کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ شام میں مداخلت کو برقرار رکھنے کے لیے لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر بھی انحصار کیا۔ اسی دوران مغرب اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ہوتے رہے۔ اس سے مغرب کی شام میں ایرانی دخل اندازی سے توجہ ہٹ گئی اور ایران شام میں کھل کھیلتا رہا۔ یوں ایران شام میں اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے اور نظریاتی عرب اتحادی اسد رجیم کو سقوط سے بچانے میں کامیاب رہا۔

سعودی عرب اورامارات کو نقصان پہنچانا

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن میں کے بارے میں ایران کا طرز عمل کسی سی مخفی نہیں۔ سنہ 2014ء کو یمن کے دارالحکومت صنعا کے غیر متوقع اور ڈرمائی انداز میں حوثیوں نے آئینی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ سنہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد یمن میں کسی ایرانی حمایت یافتہ گروپ کا اس حد تک جانے کا پہلا واقعہ ہے۔ یمن میں مداخلت سے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نقصان پہنچانے کا موقع فراہم کیا۔

تحقیق کے مطابق چونکہ ایران کی یمن میں مداخلت پر مغربی ردعمل کا فقدان تھا۔ اس لیے اس نے یمن کے تنازع کو بحیرہ احمر کے جنوب میں ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا موقع سمجھا۔ تہران نے اپنے عسکری مشیر، فنڈز ، جدید بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی ، ریمورٹ کنٹرول بمبار کشتیاں بھیج کر اپنے وفاداروں کی مدد کی۔۔

سعودی وزارت دفاع نے مملکت پر حملوں میں استعمال ہونے والے ایرانی میزائلوں کے نمونے پوری دنیا کے سامنے ثبوت کے طور پرپیش کیے۔ یہ میزائل سعودی عرب کی دو تیل تنصیبات خریص اور بعقیق کے مقامات پر داغے گئے جن سے آرامکو کی تیل کی بڑی تنصیبات کو غیرمعمولی نقصان پہنچایا گیا۔

برٹش انسٹی ٹیوٹ کے مطابق خطے کے ممالک میں ایرانی مداخلت کی دنیا میں اور کہیں مثال نہیں ملتی کوئی دوسرا ملک اپنے خطے کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا یا ان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہو۔ معاصر تاریخ میں صرف ایران ایک ایسا ملک ہے جو مسلسل توسیع پسندی کی راہ پر چل رہا ہے۔ ایران بحیرہ احمر میں سائبر اور بحری حملوں سمیت متعدد علاقائی اہداف ، سعودی آرامکو کے تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے اور تنازعات کو الجھانے کے لیے اس طرح کی کئی دوسری تخریبی کارروائیوں کا مرتکب ہوچکا ہے۔

جانی نقصان

بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اگر کسی ملک نے ایران کا ساتھ دیا تو وہ روس ہے۔خطے سے امریکا کی دوری اور اثرو رسوخ میں کمی نےایران کو اپنے اثرو نفوذ کو بڑھانے کا موقع فراہم کیا۔

خطے میں جاری ایرانی لڑائیوں کے نتیجے میں ایرانی نواز عسکریت پسندوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ یہ جنگیں ایران کو مالی طورپر بہت بھاری ثابت ہوئیں کیونکہ ان پر تہران کو اربوں ڈالر کی رقم پھونکنا پڑای۔

حزب اللہ پر لاکھوں ڈالر خرچ

برطانوی تھنک ٹینک کی 217 صفحات پر مشتمل رپورٹ فیلڈ انویسٹی گیشن کے 18 ماہ کے مطالعے کے بعد جاری کی گئی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے خطے میں مداخلت کے لیے 16 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں جن میں سے 70 کروڑ ڈالرسالانہ حزب اللہ ملیشیا کے پاس گئے تھے لیکن حال ہی میں امریکی دباؤ کے بعد ایران کی طرف سے حزب اللہ کی امداد میں کمی آئی ہے۔

اس تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ امریکی دبائو، پابندیاں، عراق اور لبنان میں ایرانی مداخلت کے خلاف جاری احتجاج تہران حکومت کو اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو کم کرنے پر مجبور نہیں کرے گا بلکہ وہ اپنے فوائد اور مفادات کو ہر طرح سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے گی۔