.

ایران نے بوشہر میں دوسرے جوہری پاور ری ایکٹر کی تعمیر شروع کردی : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے بوشہر میں واقع پلانٹ میں دوسرے جوہری پاور ری ایکٹر کی تعمیر شروع کردی ہے۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اتوار کو ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اس پاور ری ایکٹر کی تعمیر کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’جوہری توانائی سے قابل اعتماد بجلی حاصل ہوتی ہے اور ہر پاور پلانٹ سے ایک کروڑ دس لاکھ بیرل تیل یا چھیاسٹھ کروڑ ڈالر سالانہ کی بچت ہوتی ہے۔‘‘

ایرانی حکام نے بوشہر میں صحافیوں کی موجودگی میں ری ایکٹر کی بنیاد کے لیے کنکریٹ ڈالنا شروع کی تھی۔ بوشہر ایران کے دارالحکومت تہران سے 700 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔اس ری ایکٹر میں ایران 4.5 فی صد افزودہ یورینیم پر انحصار کررہا ہے۔

بوشہر میں پہلا ری ایکٹر 2011ء میں روس کی مدد سے فعال ہوا تھا۔ایران یہ دوسرا ری ایکٹر بھی روس کی مدد سے تعمیر کررہا ہے۔

ایران نے گذشتہ بدھ کو فردو میں واقع زیر زمین جوہری پلانٹ میں سینٹری فیوجز میں یورینیم گیس کا دخول شروع کیا تھا۔واضح رہے کہ ایران 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت سینٹری فیوجز میں گیس داخل نہ کرنے کا پابند ہے۔فردو پر اس سرگرمی کے بعد وہ جوہری سمجھوتے کی ایک اور شق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

اس جوہری سمجھوتے کے تحت ایران 3۰67 فی صد تک یورینیم کو افزودہ کرسکتا ہے لیکن اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ سال مئی میں اس جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبرداری کے بعد کہا تھا کہ وہ بھی اس کا پابند نہیں رہا ہے۔اس کے بعد سے وہ اس سمجھوتے کی شرائط سے مرحلہ وار دستبردار ہورہا ہے اور اس نے اپنے حساس جوہری پروگرام پر دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔