.

ایران ایک نئی ڈیل کے لیے عالمی طاقتوں سے مذاکرات کرے: یو اے ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہےکہ ایران کو ایک نئی ڈیل کے لیے عالمی طاقتوں اور خلیجی ممالک سے مذاکرات کرنے چاہییں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہوسکے اور ایران کی معیشت بحال ہوسکے۔

انھوں نے اتوار کے روز ابو ظبی میں منعقدہ سالانہ تزویراتی مباحثے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس مرحلے پر مزید کشیدگی سے کسی کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ اجتماعی سفارت کاری کی کامیابی کے اب بھی امکانات ہیں۔‘‘

انھوں نے جنگ اور ’’کم زور‘‘ جوہری ڈیل میں سے کسی ایک کے’’غلط انتخاب‘‘ پر بھی خبردار کیا ہے۔انور قرقاش نے تجویز پیش کی ہے کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات صرف جوہری پروگرام کے معاملے پرنئے سمجھوتے کے لیے نہیں ہونے چاہییں بلکہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں گماشتہ گروپوں کے ذریعے مداخلت پر پائی جانے والی تشویش کو بھی دور کیاجانا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان موضوعات پر ایران سے گفتگو میں علاقائی ممالک کو بھی شریک کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات ایران کو خطے میں ایک تخریبی قوت قرار دیتا ہے اور اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گذشتہ سال نومبر کے بعد ایران کے خلاف عاید کردہ سخت پابندیوں کی حمایت کی ہے۔

گذشتہ مہینوں کے دوران میں خلیج میں اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب سے گذرنے والے متعدد تیل بردار بحری جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں اور ستمبر میں سعودی عرب میں آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔امریکا ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا جبکہ ایران نے ان کے الزامات کی تردید کی تھی۔

انور قرقاش کا کہنا تھا:’’میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ ایران سے نمٹنے کا راستہ موجود ہے۔ تمام فریق بہت جلد اس پر چلنے کو تیار ہوں گے۔ یہ ایک طویل راستہ ہے۔اس کے لیے صبر اور حوصلہ درکار ہوگا۔‘‘

ان کا کہنا تھا :’’اہم بات یہ ہے کہ عالمی برادری ایک ہی صفحے پر ہو بالخصوص امریکا اور یورپی یونین کے رکن ممالک اور علاقائی ریاستیں (ایران کے بارے میں)یکساں موقف کی حامل ہوں۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنا تھا تاکہ اس کو ایک نئے جوہری سمجھوتے کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جاسکے۔

لیکن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ ان سخت پابندیوں کے خاتمے اور اس کی جوہری سمجھوتے میں دوبارہ واپسی تک کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کردیا ہے اور انھوں نے ایرانی عہدہ داروں پر بھی امریکا سے بات چیت پرپابندی عاید کررکھی ہے۔