.

شام میں 500-600 امریکی فوجی موجود رہیں گے: جنرل مارک میلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف مارک میلے نے کہا ہے کہ شام میں داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے کے لیے پانچ سو سے چھے سو تک امریکی فوجی موجود رہیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں شام میں تیل کے کنووں کے تحفظ کے نام پر فوج کے توسیعی مشن کی منظوری دی ہے لیکن اس فیصلے سے پہلے انھوں نے گذشتہ ماہ شام میں موجود اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

جنرل مارک میلے نے اتوار کو اے بی سی کے پروگرام’’یہ ہفتہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئےشام میں اپنے فوجیوں کو بدستور تعینات رکھنے کی یہ توجیہ بیان کی ہے کہ ’’خطے میں داعش کے جنگجوؤں پر بدستور دباؤ برقرار رکھا جانا چاہیے۔‘‘

تاہم ان کے شام میں چھے سو تک فوجیوں کو تعینات رکھنےکے اس اعلان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ان میں قریباً وہ دوسو فوجی بھی شامل ہیں یا نہیں جو شام کے جنوب میں امریکا کے التنف میں واقع فوجی اڈے پر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر کے اوائل میں ترکی کی شام کے شمال مغربی علاقے میں کردملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی سے قبل جنگ زدہ ملک سے تمام قریباً ایک ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔انھیں اس فیصلے پر اندرون اور بیرون ملک کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھااور ان پرامریکا کی اتحادی شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کو بے دست وپا کرکے تنہا چھوڑنے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔