.

اقوام متحدہ کا عراقی سیاست دانوں کو اثاثے قوم کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی میں حکومت کے خلاف جاری پرتشدد احتجاج کے جلو میں اقوام متحدہ کی طرف سے اپنی نوعیت کا پہلا بیان سامنے آیا ہے جس میں عراقی سیاست دانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اندرون اور بیرون ملک اپنے اثاثوں کی تفصیلات قوم کے سامنے پیش کریں گے۔

دوسری جانب کل اتوار کو'العربیہ' کے نامہ نگار نے عراقی سرکاری طبی ذرائع اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ ذی قار میں مظاہرین کو منتشر کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے آشک آور گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں اسکول کے بچوں سمیت 40 مظاہرین زخمی اور دم گھٹنے سے بے ہوگئے۔

اقوام متحدہ کے عراق میں موجود مشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں ملک کی سیاسی اشرافیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرون اور بیرون ملک موجود اثاثوں کو عوام کے سامنے لائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ عراقی آئین پر نظرثانی اور ترمیم کرنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے گا اور اسے ریفرنڈم میں شامل کرنے میں مدد دے گا گا۔

دوسری طرف 'یو این' نے آئین کی شقوں کے مطابق پرامن احتجاج کے حق پر زور دیا۔

مشن نے عراقی سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف تحمل کا مظاہرہ کریں اور مظاہرین کے خلاف براہ راست گولہ بارود کا استعمال نہ کریں۔

یو این مشن نے مُجرموں کےمکمل احتساب اور متاثرین کےنقصانات کے ازالے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

اسی تناظر میں مشن نے نظربند افراد کی فوری رہائی اور مظاہرین کا تعاقب نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

عراقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اغوا کے معاملات کی تحقیقات کرے اور اس میں ملوث افراد کو سامنے لائے۔ انتخابی اور سیکیورٹی سےمتعلق قوانین میں اصلاحات اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کےلیے موثر حکومتی اقدامات بھی مطالبہ کیا گیا۔

اقوام متحدہ نے عراق میں جاری مظاہروں کے دوران ملک میں غیرملکی مداخلت ختم کرنے کی ضرورت بھی زور دیا اور کہا کہ خطے کے ممالک عراق کو اپنے مفادات کا اکھاڑا نہ بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بغداد حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ غیرسرکاری اور نجی عسکری گروپوں کو غیرمسلح کرے کیونکہ اسلحہ رکھنے اور اس کے استعمال کا حق صرف ریاست کے پاس ہونا چاہیے۔

مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت

"العربیہ" کے نمائندے نے اتوار کی شام جنوبی عراق کے شہر ناصریہ میں الحبوبی اسکوائر میں ہزاروں مظاہرین نے جلوس نکالا۔ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بار بار کوشش کی مگر کشیدگی کے باوجود لوگ پھر جمع ہوجاتے۔ پولیس نے ناصریہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس ، صوتی بم اور براہ راست گولیوں کا استعمال کیا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق الحبوبی اسکوائر میں ہزاروں افراد مظاہرہ جاری رکھا اور دیر تک مظاہرین اور پولیس کے درمیان ذی قار کے مرکزی مقام میں آنکھ مچولی جاری رہی۔

ادھر دارالحکومت بغداد میں الخالانی اسکوائر میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے مابین پرتشدد جھڑپیں شروع ہوگئیں جن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

سیکڑوں مظاہرین نے چوک میں حفاظتی رکاوٹیں توڑ کرآگے بڑھنے کی کوش کی تو پولیس اور دوسرے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے ان پر آنسو گیس اور ساؤنڈ بم فائر کیے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کے روز الخالانی اسکوائر میں ہونے والے احتجاج کے دوران 17 مظاہرین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ متعدد مظاہرین کو شدید زخمی ہونے کی وجہ سے اسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔

300 سے زیادہ ہلاکتیں

اتوار کے روز عراق میں ہیومن رائٹس کے کمیشن کے اعلان کے مطابق ، گذشتہ اکتوبر میں حکومت مخالف مظاہروں کے آغاز کے بعد اب تک 319 مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

عراقی نیوز ایجنسی ممبر پارلیمنٹ ارشد الصالحی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے مظاہروں کی مانیٹرنگ کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو احتجاج کے حوالے سے مستند معلومات جمع کرنے اور احتجاج کی مانیٹرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے ان خطرناک طریقوں کے بارے میں بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جن میں مظاہرین کو سنائپرز اور نامعلوم افراد کے ذریعہ نشانہ بنائے جانے کے واقعات شامل ہیں۔ ارشد الصالحی نے ملک میں انٹرنیٹ کی بندش ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

درایں اثناء انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عراقی حکام سے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے مسلسل اور غیر قانونی استعمال کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق میں بہت خون خرابہ ہوچکا، یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے اور تشدد کرنے اور شہریوں کا خون بہانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لی جانی چاہیے۔