.

ایران میں غیرعلانیہ جگہ سے یورینیم کے ذرّات مل گئے: آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں ایران میں ایک غیر علانیہ جگہ میں یورینیم کے ذرّات کا سراغ لگانے کا انکشاف کیا ہے۔

آئی اے ای اے نے سوموار کو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق یہ رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ اس جگہ سے یورینیم کے قدرتی ذرّات کا پتا چلا ہے، ایران نے پہلے اس کے بارے میں ایجنسی کو مطلع نہیں کیا تھا۔

آئی اے ای اے نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ایران نے اپنی زیر زمین فردو تنصیب میں یورینیم کو افزودہ کرنا شروع کردیا ہے۔اس طرح اس نے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ سمجھوتے کی ایک اور خلاف ورزی کا ارتکاب ہوا ہے۔

آئی اے ای اے نے اپنی اس سہ ماہی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے ذخائر اور مصفا یورینیم سمجھوتے کی تحدیدات سے زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے گذشتہ بدھ کو فردو میں واقع زیر زمین جوہری پلانٹ میں سینٹری فیوجز میں یورینیم گیس کا دخول شروع کیا تھا۔وہ 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت سینٹری فیوجز میں گیس داخل نہ کرنے کا پابند ہے۔فردو پلانٹ میں اس سرگرمی کے بعد وہ جوہری سمجھوتے کی ایک اور شق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

اس جوہری سمجھوتے کے تحت ایران 3۰67 فی صد تک یورینیم کو افزودہ کرسکتا ہے لیکن اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ سال مئی میں اس جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبرداری کے بعد کہا تھا کہ وہ بھی اس کا پابند نہیں رہا ہے۔اس کے بعد سے وہ اس سمجھوتے کی شرائط سے مرحلہ وار دستبردار ہورہا ہے اور اس نے اپنے حساس جوہری پروگرام پر دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔

تاہم صدر حسن روحانی نے گذشتہ ہفتے ایران کی جانب سے اس پیش کش کا اعادہ کیا تھا کہ اس نے جوہری سمجھوتے سے انحراف کے جتنے بھی اقدامات کیے ہیں، انھیں واپس لیا جاسکتا ہے مگر اس کی یہ شرط عاید کی تھی کہ سمجھوتے پر دست خط کرنے والے دوسرے ممالک بھی اپنے وعدوں کی پاسداری کریں تو ایران جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کی پاسداری کرے گا۔