.

سعودی عرب:73 غیرملکیوں کو مستقل سکونت کے لیے ’’پریمیم‘‘ اقاموں کا اجراء

پہلی کھیپ میں غیرمعمولی اقامہ حاصل کرنے والوں میں پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، فلسطین، لیبیا اور تُونس کے شہری شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے بیرونی سرمایہ کاری، مختلف پیشوں سے وابستہ ماہرین اورہُنرمند افرادی قوت کو راغب کرنے کی کوششوں کے تحت 73 غیر ملکیوں کو ’’پریمیم‘‘ (غیرمعمولی) اقامے جاری کردیے ہیں۔

سعودی عرب نے آٹھ لاکھ ریال (213,301 امریکی ڈالر) فیس کی یک مشت ادائی کی صورت میں غیر ملکیوں کو مستقل سکونت اور ایک لاکھ ریال سالانہ کے عوض قابل تجدید’’پریمیم‘‘ اقامت کی پیش کش کی تھی۔اس کے جواب میں سعودی حکومت کو ہزاروں غیرملکیوں کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

پریمیم اقامہ مرکز نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ پہلے بیچ میں 19 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو مستقل سکونت کے لیے اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں انجنئیرز ، ڈاکٹر اور مال دار شخصیات شامل ہیں۔ پہلی کھیپ میں منفرد اقامہ حاصل کرنے والوں میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آئرلینڈ، چین، بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، اردن، شام، فلسطین، لبنان، عراق، یمن، مصر، تُونس، لیبیا اور سوڈان کے شہری شامل ہیں۔

پریمیم اقامہ مرکز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بندرالعاید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’متعلقہ شرائط وضوابط پر پورا اترنے والا کوئی بھی شخص مملکت میں پریمیم سکونت کے لیے درخواست دے سکتا ہے،خواہ وہ مملکت میں اس وقت مقیم ہے یا کسی اور ملک سے یہاں آکر رہنے کا خواہش مند ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا:’’ سعودی عرب اس وقت کام یا سرمایہ کاری یا صرف رہنے کے لیے اہم مقام ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سعودی عرب کی تین کروڑ چالیس لاکھ آبادی میں سے غیرملکی تارکینِ وطن ورکروں کی تعداد قریباً ایک تہائی ہے۔

سعودی عرب نے اس سال مئی میں دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین ، ڈاکٹروں ، انجنئیروں اور سرمایہ کاروں کو طے شدہ فیس کے بدلے میں مستقل سکونت دینے کی منظوری دی تھی۔اس کے ایک ماہ کے بعد اس مقصد کے لیے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔یہ اقدام بھی سعودی عرب کے ویژن 2030 کا حصہ ہے۔ وسیع تر اصلاحات کے حامل اس پروگرام کا مقصد سعودی معیشت کو متنوع بنانا اور تیل کی معیشت پر انحصار کم کرنا ہے۔

سعودی عرب نے اس ویژن کے تحت نمایاں خصوصیات کے حامل غیر ملکیوں کو غیرمعمولی خصوصی اقامے جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسے اقامے کے حاملین کو کئی ایک مراعات حاصل ہوں گی اور وہ سعودی عرب میں آزادانہ کاروبار کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے ستمبر میں پہلی مرتبہ سیاحتی ویزے کا اجراء کیا تھا اور اپنے دروازے بین الاقوامی سیاحوں کے لیے کھول دیے تھے۔اب 49 ممالک سے تعلق رکھنے والے شہری آن لائن درخواست دے کر برقی ویزا حاصل کرسکتے ہیں یا وہ سعودی عرب میں آمد پر بھی ویزا حاصل کرسکتے ہیں۔ سیاحتی ویزوں کے اجراء کے بعد صرف 10 روز میں 24 ہزار غیرملکی سیاحوں کی سعودی عرب میں آمد ہوئی تھی۔