.

طرابلس پرقبضے کی لڑائی میں لیبی فوج کی مدد نہیں کررہے:سوڈان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی عبوری حکومت نے پڑوسی ملک لیبیا میں جاری محاذ آرائی میں ملوث ہونے سے متعلق اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئےواضح کیا ہے کہ خرطوم طرابلس پر قبضے کی لڑائی میں لیبیا کی نیشنل آرمی کی کسی قسم کی مدد نہیں کررہا ہے۔

سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورس کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل جمال جمعہ نے العربیہ کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں کہا کہ لیبیا میں دو متحارب گروپوں میں جاری لڑائی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ ہم اس جنگ میں غیر جانب دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سرحد پار سے غیرقانونی درندازی کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور غیرقانونی امیگریشن کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اتوار کے روز سوڈانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل عامر محمد الحسن نے بھی میجر جنرل خلیفہ حفتر کی سربراہی میں لیبیا کی فوج کی مدد کے لیے ایک ہزار فوجی بھیجنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام الزامات قومی اداروں اور سوڈان کی مسلح افواج کو بدنام کرنے کے لیے عاید کیے جا رہے ہیں۔ طرابلس پرقبضے کی لڑائی میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں اور ہم اس میں مکمل طورپر غیر جانب دارہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خرطوم پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے خلیفہ حفتر کی زیرقیادت فوج کی مدد کے لیے ایک ہزار فوجی بھیجے ہیں۔ خیال رہے کہ سوڈان کی ریپڈ فورس نے رواں سال آنے والے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں صدر عمر البشیر کے 30 سالہ دور اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔

یہ فورسنہ2013ء میں لیفٹیننٹ جنرل محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی جس میں قبائلیوں کو شامل کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ ادارہ قومی انٹلیجنس اینڈ سیکیورٹی سروس کے تحت کام کرتا رہا۔ بعد میں اسے شورش زدہ علاقے دارفر میں باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے مختص کردیا گیا تھا۔ جنوری 2017ء کو سوڈانی صدر کی کمان میں یہ فورس باقاعدہ فوج کا حصہ بن گئی۔