.

امریکا نے شام میں کرد ملیشیا کے انخلا کا وعدہ نہیں نبھایا:ترک صدر

امریکی کانگریس کے ارکان کا صدر ٹرمپ سے طیب ایردوآن کووائٹ ہاؤس میں ملاقات کی دعوت واپس لینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے: وہ امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں انھیں یہ باور کرائیں گے کہ امریکا شام میں گذشتہ ماہ طے شدہ سمجھوتے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے سے کرد ملیشیا کو پیچھے نہیں ہٹایا ہے۔

صدر ایردوآن نے منگل کے روز ترکی سے واشنگٹن روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :’’ یہ کہنا ناممکن ہے کہ دہشت گردوں نے شام کے شمال مشرقی علاقے کی پٹی کو خالی کردیا ہے۔‘‘ وہ بدھ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات کریں گے۔

ترک صدر نے یورپی اقوام کو بھی خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک قبرص کے معاملے پر پابندیوں کے ردعمل میں داعش کے جنگجوؤں کو رہا کرکے واپس یورپ بھیج دے گا۔

انھوں نے یہ عندیہ دے دیا ہے کہ ترکی داعش کے غیرملکی جنگجوؤں کو بے دخل کرکے ان کے آبائی ممالک کو واپس بھیجتا رہے گا۔اگر وہ ممالک اپنے ان جنگجو شہریوں کو واپس لینے سے انکاری ہوتے ہیں تو تب بھی انھیں ان کے حوالے کیا جائے گا۔

صدر ایردوآن نے یہ دھمکی یورپی یونین کی ترکی کے خلاف سوموار کو پابندیوں کے اعلان کے ردعمل میں دی ہے۔یورپی یونین نے ترکی پر بحرمتوسط میں قبرص کی آبی حدود میں گیس کے اخراج کے لیے غیر مجاز ڈرلنگ پر پابندیاں کے ایک نظام کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے یورپی یونین کے رکن ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’تمھیں ترکی کے بارے میں موقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔اس نے داعش کے کئی ایک ارکان کو جیلوں میں قید کررکھا ہے اور شام میں بھی انھیں کنٹرول کیا ہوا ہے۔‘‘

وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تنسیخ کا مطالبہ

صدر ایردوآن کی واشنگٹن روانگی سے قبل امریکی کانگریس کے ڈیمو کریٹ اور ری پبلکن ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک انوکھا مطالبہ کیا ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوان نمایندگان کے پندرہ اور ری پبلکن پارٹی کے دو ارکان نے صدر ٹرمپ پر زوردیا ہے کہ وہ ترک صدر کو وائٹ ہاؤس میں بُلا بھیجنے کا دعوت نامہ منسوخ کردیں اور ان سے بدھ کو طے شدہ ملاقات نہ کریں۔

انھوں نے صدرٹرمپ کے نام ایک خط لکھا ہے اوراس میں کہا ہے کہ ترکی کی شام کے شمال مشرقی علاقے میں فوجی چڑھائی کے امریکا کی قومی سلامتی کے لیے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انھوں نے ترک صدر کے امریکا کے دورے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سوموار کو جاری کردہ اس خط میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’ صدر ایردوآن کے نو اکتوبر کو شمالی شام پر فوجی چڑھائی کے فیصلے سے نیٹو اتحاد میں گہری تقسیم پیدا ہوگئی ہے اور برسرزمین ایک انسانی بحران پیدا ہوچکا ہے۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں:’’ اس صورت حال کے پیش نظر ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ صدر ایردوآن کے لیے امریکا کے دورے کا یہ بالکل نامناسب وقت ہے اور ہم آپ (صدر ٹرمپ) پر زور دیتے ہیں کہ انھیں دیا گیا دعوت نامہ واپس لے لیں۔‘‘

اس خط میں شام میں فوجی کارروائی کے علاوہ ترکی کے بعض ناپسندیدہ اقدامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان میں روس سے میزائل دفاعی نظام ایس-400 کی خریداری بھی شامل ہے۔اس کے بارے میں امریکا کا کہناہے کہ یہ نیٹو کے دفاعی نظام سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا ہے اور اس سے امریکی ساختہ لاک ہیڈ مارٹن ایف -35 لڑاکا جیٹ کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ ترک ہم منصب سے روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے معاملے پر بات چیت کریں گے اور اگر اس نے روس سے اس نظام کی خریداری جاری رکھی تو پھر اس کو امریکی پابندیوں کے اثرات ضرور محسوس ہوں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے پہلے ہی ترکی کے خلاف شام میں کردوں کے خلاف کارروائی کے ردعمل میں اقتصادی پابندیاں عاید کررکھی تھیں اور اس کی امریکا کے لیے فولاد کی برآمدات پر محاصل میں بھی اضافہ کردیا تھا۔